سوال کیا نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے کہی گئی اذان کا جواب دیا جائے گا؟
جواب جی ہاں اذانِ نماز کے علاوہ دیگر اذانوں کا جواب بھی دیا جائے گا مثلاً بچے کی پیدائش پر دی جانے والی اذان ۔ (1)
سوال وہ کون سی اذان ہے جس کا جواب نہیں دیا جائے گا؟
جواب مقتدیوں کو خطبے کی اذان کا جواب زبان سے ہرگز نہیں دینا چاہئے یہی اَحْوَط ( یعنی احتیاط سے قریب) ہے ۔ ہاں اگر دل سے جواب دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ (2)
سوال اگر چند اذانیں سنے تو کونسی اذان کا جواب دے ؟
جواب اگر چند اذانیں سنے تو اس پر پہلی ہی کا جواب ہے اور بہتر یہ ہے کہ سب کا جواب دے ۔ (3)
سوال اِقامَت کا جواب دینے کا کیا حکم ہے ؟
جواب اِقامَت کا جواب دینا مستحب ہے ۔ (4)
سوال اگر اذان یا اِقامَت کہتے ہوئے کلمات آگے پیچھے ہوجائیں تو کیا کرے ؟
جواب اگر کلماتِ اَذان یا اِقامت میں کسی جگہ تقدیم و تاخیر ہوگئی ( یعنی کلمات آگے پیچھے ہوگئے ) تو اتنے کوصحیح کرلے ۔ شروع سے دُہرانے کی ضرورت نہیں اور اگر صحیح نہ کئے اور نماز پڑھ لی تو نماز دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ (5)
________________________________
1 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الاذان ، مطلب فی کراھة تکرار الجماعةفی المسجد ، ۲ / ۸۲ ۔
2 - درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الاذان ، ۲ / ۸۷ ، فتاوی رضویہ ، ۸ / ۳۰۱ ، ملتقطاً ۔
3 - درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الاذان ، مطلب فی کراھة تکرار الجماعةفی المسجد ، ۲ / ۸۲ ۔
4 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی فی الاذان ، ۱ / ۵۷ ۔
5 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی فی الاذان ، ۱ / ۵۶ ۔