آواز ہیں ۔ “ (1)
سوال اذان کہنے کی فضیلت پر کوئی تین روایات سنائیے ؟
جواب ( 1) مُؤذِّن کی جہاں تک آواز پہنچتی ہے ، اس کے ليے مغفرت کر دی جاتی ہے اورہر تر و خشک جس نے آواز سنی اس کے ليے گواہی دے گا ۔ (2) ( 2) ثواب کی طلب میں اَذان دینے والاخون میں لت پت شہید کی طرح ہے ، مرنے کے بعدقبر میں اس کے بدن میں کیڑے نہیں پڑیں گے ۔ (3) ( 3) اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اَذان کہنے میں کتنا ثواب ہے تو اِس پر باہم تلوار چلتی ۔ (4)
سوال اگر نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے اذان کہی گئی تو اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب وقت ہونے کے بعد اَذان کہی جائے ، قبل از وقت کہی گئی يا وقت ہونے سے پہلے شروع ہوئی اور اذان کے دوران وقت آگیا تو اِعَادَہ کی جائے ( یعنی دوبارہ دی جائے ) ۔ (5)
سوال بیٹھ کر اذان کہنایا قبلہ کے علاوہ کسی اور سمت منہ کرکے اذان کہنا کیسا؟
جواب ایسا کرنامکروہ ہے ، اگراِس طرح کہی تو دوبارہ دی جائے ۔ (6)
________________________________
1 - ابو داود ، کتاب الصلاة ، باب کیف الاذان ، ۱ / ۲۱۰ ، حدیث : ۴۹۹ ۔
2 - مسند امام احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳ / ۴۲۰ ، حدیث : ۹۵۴۶ ۔
3 - معجم کبیر ، ۱۲ / ۳۲۲ ، حدیث : ۱۳۵۵۴ ۔
4 - مسند امام احمد ، مسند ابی سعید الخدری ، ۴ / ۵۹ ، حدیث : ۱۱۲۴۱ ۔
5 - ھدایة ، کتاب الصلاة ، باب الاذان ، ۱ / ۴۵ ، بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ۱ / ۴۶۵ ۔
6 - فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی فی الاذان ، ۱ / ۵۴ ۔
درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الاذان ، مطلب فی اول من بنی المنائر للاذان ، ۲ / ۶۹ ۔