( 2) اعضا کو جرائم اور گناہوں سے پاک کرنا ( 3) اپنے دل کو بُرے اخلاق سے پاک کرنااور ( 4) اپنے باطن کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے غیر سے پاک رکھنا ۔ (1)
سوال دل کی طہارت کس طرح حاصل ہوتی ہے ؟
جواب حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِیارشاد فرماتے ہیں : ظاہِری وُضو کر لینے والے کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دل کی طہارت ( یعنی صفائی) توبہ کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے اور عمدہ اخلاق اپنانے سے ہوتی ہے ۔ جو شخص دل کو گناہوں کی آلودگیوں سے پاک نہیں کرتا فقط ظاہِری طہارت ( یعنی صفائی ) اور زَیب و زینت پر اِکتفا کرتا ہے اُس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو مَدعو کرتا ہے اور اپنے گھر بار کو باہَر سے خوب چمکاتا ہے اور رنگ و روغن کرتا ہے مگر مکان کے اندر ونی حصّے کی صفائی پر کوئی توجُّہ نہیں دیتا ۔ پھر جب بادشاہ اُس کے مکان کے اندر آکر گندگیاں دیکھے گا تو وہ ناراض ہوگا یا راضی یہ ہر ذی شعور خود سمجھ سکتا ہے ۔ (2)
سوال گھر سے وضو کرکے فرض نماز کے لئے مسجد میں جانے والے کا کیا انعام ہے ؟
جواب حضرت سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے گھر میں طہارت ( یعنی وضو وغسل) کرکے فرض ادا کرنے کے لئے مسجد کو جاتا ہے تو ایک قدم پر ایک
________________________________
1 - لباب الاحیاء ، الباب الثالث فی اسرار الطھارة ، ص۴۹ ۔
2 - احیاء علوم الدين ، کتاب الطھارة ، القسم الثانی فی طھارة الاحداث ، ۱ / ۱۸۵ ، ماخوذاً ۔