میں عذاب ہے ۔ (1)
سوال کیاجائزو مُباح کام مستحب بن سکتا ہے ؟
جواب جی ہاں ! اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ہر مُباح نیتِ حَسَن ( یعنی اچھی نیت) سے مستحب ہو جاتا ہے ۔ (2)
سوال حرامِ قطعی کی وضاحت کیجئے ؟
جواب وہ عمل جس کی ممانعت دلیلِ قطعی سے لزوماً ثابت ہو ، یہ فرض کا مُقابِل ہے ۔ (3)
سوال مکروہِ تحریمی اور مکروہِ تنزیہی میں کیا فرق ہے ؟
جواب مکروہِ تحریمی یہ واجب کا مُقابِل ہے اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے اور چند بار اس کا ارتکاب ( گناہِ) کبیرہ ہے ۔ جبکہ مکروہِ تنزیہی وہ کام ہے جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں مگر اس حدتک نہیں کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے ۔ یہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے ۔ (4)
سوال اِساءَ ت کسے کہتے ہیں؟
جواب وہ ممنوعِ شرعی جس کی ممانعت کی دلیل حرام اورمکروہِ تحریمی جیسی تو نہیں مگر اس کاکرنا بُرا ہے ، یہ سنّتِ مؤکّدہ کے مُقابِل ہے ۔ (5)
________________________________
1 - بہارشریعت ، حصہ۱۶ ، ۳ / ۳۵۸ ۔
2 - فتاویٰ رضویہ ، ۸ / ۴۵۲ ۔
3 - ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، مطلب فی الفرض القطعی والظنی ، ۱ / ۲۱۵ ماخوذاً ، بہارشریعت ، حصہ۲ ، ۱ / ۲۸۳ ۔
4 - بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ / ۲۸۳ ۔
5 - ہمارا اسلام ، ص۱۹۵ ، ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، مطلب فی السنة وتعریفھا ، ۱ / ۲۳۰ ، ماخوذاً ۔