کرنا ہے ۔ (1)
سوال کس طرح کے شخص کی صحبت اختیار کرنی چاہئے ؟
جواب حضرت سَیِّدُنا سُفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشادہے : ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی صورت دیکھ کر تمہیں خُدا یاد آئے ، جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کا شوق دلائے ۔ (2)
سوال سَیِّدُناحکیم لقمانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے بیٹے کو علما کے متعلق کیا نصیحت فرمائی؟
جواب منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے بیٹے کو جو وصیتیں فرمائیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ بیٹا ! علما کی صحبت میں بیٹھا کرو ، اپنے زانو ان کے زانوسے ملادو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نورِحکمت سے دلوں کو ایسے زندہ کرتا ہے جیسے زمین کو مسلسل بارِش سے ۔ (3)
سوال رَاسِخْ فِی الْعِلْم ( علم میں پختگی رکھنے والے ) سے کون لوگ مراد ہیں؟
جواب رَاسِخْ فِی الْعِلْموہ عالم ہے جس کا علم اُس کے دل میں اتر گیا ہو جیسے مضبوط درخت وہ ہے جس کی جڑیں زمین میں جگہ پکڑ چکی ہوں ، اس سے مراد خوش عقیدہ اور با عمل علماء ہیں ۔ (4)
________________________________
1 - دارمی ، المقدمة ، باب مذاکرة العلم ، ۱ / ۱۵۸ ، حدیث : ۶۲۴ ۔
2 - جامع بیان العلم وفضلہ ، جامع فی آداب العالم والمتعلم ، ص۱۷۲ ، رقم : ۵۶۷ ۔
3 - موطا لامام مالک ، کتاب العلم ، باب ماجاء فی طلب العلم ، ۲ / ۴۷۸ ، حدیث : ۱۹۴۰ ۔
4 - تفسیر صراط الجنان ، پ۶ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۶۲ ، ۲ / ۳۵۷ ۔