فرق ہو گا (1) ۔ (2)
سوال کیا سائنسی اور جُغْرافیائی عُلوم کا حُصُول بھی ثواب کا باعث بن سکتا ہے ؟
جواب جی ہاں ! علمِ جغرافیہ اور سائنس حاصل کرنا بھی ثواب ہے جبکہ اچھی نیت ہو جیسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت یا اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم حاصل کرنے کے لیے ، لیکن یہ شرط ہے کہ اسلامی عقائد کے خلاف نہ ہو ۔ (3)
سوال حدیثِ مبارکہ میں علم اُٹھ جانے کی کیفیت کیا بیان فرمائی گئی ہے ؟
جواب حضور نبیٔ غیب دان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ علم کو اس طرح نہیں قبض کرے گا کہ لوگوں کے سینوں سے جدا کرلے ، بلکہ علم کا قبض کرنا علما کے قبض کرنے سے ہوگا ، جب عالم باقی نہ رہیں گے جاہلوں کو لوگ سردار بنالیں گے ، وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے ، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ (4)
سوال حدیثِ مبارکہ میں کس چیز کو علم کی آفت قراردیا گیا ہے ؟
جواب حضور معلّمِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : علم کی آفت نسیان ( یعنی بھول جانا) ہے اور نااہل سے علم کی بات کہنا علم کو ضائع
________________________________
1 - یعنی مرتبۂ نبوت اور اس سے جو کمالات متعلق ہیں ان کے علاوہ ہر مرتبہ اور کمال اُسے حاصل ہوگا ۔ ( خطبات محرم ، ص۲۴ ، ماخوذاً)
2 - معجم اوسط ، ۶ / ۴۷۵ ، حدیث : ۹۴۵۴ ۔
3 - تفسیر صراط الجنان ، پ۴ ، اٰل عمران ، تحت الآیۃ : ۱۹۰ ، ۲ / ۱۲۰ ۔
4 - بخاری ، کتاب العلم ، باب کیف یقبض العلم ، ۱ / ۵۴ ، حدیث : ۱۰۰ ۔