نکلیں کہ پڑوسی کے بچوں کو رَنج ہوگا ۔ تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے ؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مکمل طور پر پڑوسی کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہیں ، وہی ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مہربانی ہے ۔ (1)
سوال پڑوسیوں کو تکلیف دینے پر حدیثِ پاک میں کیا وعید آئی ہے ؟
جواب حضور سرورِ کونین ، شہنشاہِ دَارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : خدا کی قسم ! وہ مومن نہیں ! خدا کی قسم وہ مومن نہیں ! خدا کی قسم وہ مومن نہیں ! عرض کی گئی : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کون؟ ارشادفرمایا : وہ شخص جس کی ایذا رَسانی سے اُس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ۔ (2)
سوال آدمی کے نیک یا بُراہونے کا پتہ کن لوگوں سے چلتا ہے ؟
جواب اس آدمی کے پڑوسیوں سے ۔ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کرکے میں جنّت میں داخل ہوجاؤں ۔ حضور نبیٔ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : نیک بن جاؤ ۔ عرض کی : مجھے اپنے نیک ہونے کا کیسے پتہ چلے گا؟ ارشاد فرمایا : اپنے پڑوسیوں سے پوچھو اگر وہ تمہیں نيک کہيں توتم نيک ہو اور اگر وہ بُرا کہيں تو تم بُرے ہو ۔ (3)
سوال نیک لوگوں کے پڑوس میں رہنے کے کیا فائدے ہیں؟
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ، ۷ / ۸۳ ، حدیث : ۹۵۶۰ ۔
2 - بخاری ، کتاب الادب ، باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ ، ۴ / ۱۰۴ ، حدیث : ۶۰۱۶ ۔
3 - شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ، ۷ / ۸۵ ، حدیث : ۹۵۶۷ ۔