Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
340 - 360
	نکلیں کہ پڑوسی کے بچوں کو رَنج ہوگا ۔  تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے ؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مکمل طور پر پڑوسی کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہیں ، وہی ہیں جن پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی مہربانی ہے ۔  (1) 
سوال	پڑوسیوں کو تکلیف دینے پر حدیثِ پاک میں کیا وعید آئی ہے ؟ 
جواب	حضور سرورِ کونین ، شہنشاہِ دَارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  خدا کی قسم !  وہ مومن نہیں !  خدا کی قسم وہ مومن نہیں !  خدا کی قسم وہ مومن نہیں !  عرض کی گئی :  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کون؟ ارشادفرمایا : وہ شخص جس کی ایذا رَسانی سے اُس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ۔  (2) 
سوال	آدمی کے نیک یا بُراہونے کا پتہ کن لوگوں سے چلتا ہے ؟ 
جواب	اس آدمی کے پڑوسیوں سے ۔ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی :  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کرکے میں جنّت میں داخل ہوجاؤں ۔ حضور نبیٔ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  نیک بن جاؤ ۔ عرض کی :  مجھے اپنے نیک ہونے کا کیسے پتہ چلے گا؟ ارشاد فرمایا :  اپنے پڑوسیوں سے پوچھو اگر وہ تمہیں نيک کہيں توتم نيک ہو اور اگر وہ بُرا کہيں تو تم بُرے ہو ۔  (3) 
سوال	نیک لوگوں کے پڑوس میں رہنے کے کیا فائدے ہیں؟ 



________________________________
1 -     شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ، ۷ /  ۸۳ ، حدیث : ۹۵۶۰ ۔ 
2 -     بخاری ، کتاب الادب ، باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ ، ۴ /  ۱۰۴ ، حدیث : ۶۰۱۶ ۔ 
3 -     شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ، ۷ /  ۸۵ ، حدیث : ۹۵۶۷ ۔