پڑوسیوں اور عام مسلمانوں کے حُقُوق
سوال حدیثِ پاک میں پڑوسی کسے فرمایا گیا ہے ؟
جواب حضور نبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : مسجد کے دروازے پر جاکر یہ اِعلان کیا جائے کہ’’سن لو40گھر پڑوس میں داخل ہیں ۔ (1) ( حدیث شریف کے راوی) حضرت سیِّدُنا امام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں : 40 گھر دائیں ، 40بائیں ، 40آگے اور40 گھر پیچھے ، اس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چاروں جانب اشارہ فرمایا ۔ (2)
سوال سرورِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے پڑوسی کے حقوق کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟
جواب مُعلّمِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے ؟ یہ کہ جب وہ تم سے مدد مانگے مدد کرو اور جب قرض مانگے قرض دو اور جب محتاج ہو تو اسے دو اور جب بیمار ہو عِیادَت کرو اور جب اسے بھلائی پہنچے تو مبارک باد دو اور جب مصیبت پہنچے تو تَعزِیَت کرو اور مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ اوراس کی اجازت کے بغیر اپنی عمارت بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا روک دو اور اپنی ہانڈی کی خوشبوسے اس کو ایذا نہ دومگر اس میں سے کچھ اسے بھی دو اور پھل خریدو تو اس کے پاس بھی ہدیہ کرو اور اگر ہدیہ نہ کرنا ہو تو چھپا کر مکان میں لاؤ اورتمہارے بچے پھل لے کر باہر نہ
________________________________
1 - معجم کبیر ، ۱۹ / ۷۳ ، حدیث : ۱۴۳ ۔
2 - احیاء علوم الدين ، کتاب آداب الالفة ۔ ۔ ۔ الخ ، الباب الثالث فی حق المسلم...الخ ، ۲ / ۲۶۶ ۔