کَڑھائی) کھانا پکانا سکھائے ۔ ( 3) ”سورۂ نو ر“کی تعلیم دے ۔ ( 4) بیٹیوں سے زیادہ دلجوئی وخاطر داری رکھے کہ ان کا دل بہت تھوڑا ( چھوٹا) ہوتا ہے ۔ ( 5) دینے میں انہیں اور بیٹوں کو کانٹے کی تول برابر رکھے ( یعنی دونوں کو دیتے وقت مکمل عدل وانصاف کرے ) ۔ ( 6) جو چیز دے پہلے انہیں دے کر بیٹوں کو دے ۔ (1)
سوال بیٹیوں پر شفقتِ نَبَوی کیسی تھی ؟
جواب حضرت سيِّدتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا جب رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتيں تو آپ کھڑے ہو جاتے ، ان کی طرف متوجّہ ہو جاتے ، پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے ليتے ، اسے بوسہ ديتے پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے ۔ اسی طرح جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت سيِّدتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاں تشريف لے جاتے تو وہ آپ کو ديکھ کر کھڑی ہو جاتيں ، آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتیں پھراس کو چُومتیں اورآپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتيں ۔ (2)
سوال بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے پر کیا خوشخبری دی گئی ہے ؟
جواب حضورتاجدارِ ختمِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : جسے خداتعالیٰ نے لڑکیاں دی ہوں ، اگر وہ ان کے ساتھ اِحسان کرے تو وہ جہنّم کی آگ سے اس کے لیے روک ہوجائیں گی ۔ (3)
________________________________
1 - اولاد کے حقوق ، ص۲۷ماخوذا ۔
2 - ابو داود ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی القیام ، ۴ / ۴۵۴ ، حدیث : ۵۲۱۷ ۔
3 - مسلم ، کتاب البر والصلة ، باب فضل الاحسان الی البنات ، ص۱۰۸۴ ، حدیث : ۶۶۹۳ ۔