Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
337 - 360
		 تحفہ ضرور لائے  (  6) اولاد کے ساتھ تنہا خوری نہ برتے  (  اولاد کو چھوڑ کر اکیلے نہ کھائے ) بلکہ جس اچھی چیز کو ان کا جی چاہے انہیں دے کر ان کے طفیل میں آپ بھی کھائے ، زیادہ نہ ہو تو انہیں کو کھلائے ۔  (1) 
سوال	حدیثِ پاک میں اولاد کے درمیان عدل کے متعلق کیا ارشاد ہواہے ؟ 
جواب	رسولِ اَکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  عطیہ میں اپنی اولاد کے درمیان عَدْل کرو ، جس طرح تم خود یہ چاہتے ہو کہ وہ سب تمہارے ساتھ احسان و مہربانی میں عَدْل کریں ۔  نیز ارشادفرمایا : اللہتعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عَدْل کرویہاں تک کہ بوسہ لینے میں ۔  (2) 
سوال	اپنی اولاد کو بوسہ نہ دینے والے اعرابی  سے کیا فرمایا گیا ؟ 
جواب	ایک اَعرابی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ہم انہیں بوسہ نہیں دیتے ۔ حضوررحمتِ دوجہان ، مالک کون ومکان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا  :  اللہتعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کروں ۔  (3) 
سوال	خاص بیٹی کے حقوق میں سے کچھ حقوق بیان کیجئے ؟ 
جواب	مجددِ اعظم امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  :  (  1) اس کے پیدا ہونے پر نا خوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ الٰہیہ جانے  ۔  (  2) اسے سِیْنَا پِرونا کاتْنا  (  سِلائی ،



________________________________
1 -      اولاد کے حقوق ، ص۱۹ تا ۲۰ ، ماخوذ اً ۔ 
2 -     دارقطنی ، کتاب البیوع ، ۳ /  ۵۱ ، حدیث : ۲۹۴۴ ، کنزالعمال ، کتاب النکاح ، الفصل الرابع فی حقوق وآداب متفرقة ، ۱۶ / ۱۸۵ ، حدیث : ۴۵۳۴۲ ، نوادرالاصول ، الاصل الثانی والستون والمائتان ، ۲ /  ۱۰۹۱ ، حدیث : ۱۴۰۷ ۔ 
3 -     بخاری ، کتاب الادب ، باب رحمة الولد وتقبیلہ ومعانقتہ ، ۴ /  ۱۰۰ ، حدیث : ۵۹۹۸ ۔