تحفہ ضرور لائے ( 6) اولاد کے ساتھ تنہا خوری نہ برتے ( اولاد کو چھوڑ کر اکیلے نہ کھائے ) بلکہ جس اچھی چیز کو ان کا جی چاہے انہیں دے کر ان کے طفیل میں آپ بھی کھائے ، زیادہ نہ ہو تو انہیں کو کھلائے ۔ (1)
سوال حدیثِ پاک میں اولاد کے درمیان عدل کے متعلق کیا ارشاد ہواہے ؟
جواب رسولِ اَکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : عطیہ میں اپنی اولاد کے درمیان عَدْل کرو ، جس طرح تم خود یہ چاہتے ہو کہ وہ سب تمہارے ساتھ احسان و مہربانی میں عَدْل کریں ۔ نیز ارشادفرمایا : اللہتعالیٰ اس کو پسند کرتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عَدْل کرویہاں تک کہ بوسہ لینے میں ۔ (2)
سوال اپنی اولاد کو بوسہ نہ دینے والے اعرابی سے کیا فرمایا گیا ؟
جواب ایک اَعرابی نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں ہم انہیں بوسہ نہیں دیتے ۔ حضوررحمتِ دوجہان ، مالک کون ومکان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا : اللہتعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کروں ۔ (3)
سوال خاص بیٹی کے حقوق میں سے کچھ حقوق بیان کیجئے ؟
جواب مجددِ اعظم امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ( 1) اس کے پیدا ہونے پر نا خوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ الٰہیہ جانے ۔ ( 2) اسے سِیْنَا پِرونا کاتْنا ( سِلائی ،
________________________________
1 - اولاد کے حقوق ، ص۱۹ تا ۲۰ ، ماخوذ اً ۔
2 - دارقطنی ، کتاب البیوع ، ۳ / ۵۱ ، حدیث : ۲۹۴۴ ، کنزالعمال ، کتاب النکاح ، الفصل الرابع فی حقوق وآداب متفرقة ، ۱۶ / ۱۸۵ ، حدیث : ۴۵۳۴۲ ، نوادرالاصول ، الاصل الثانی والستون والمائتان ، ۲ / ۱۰۹۱ ، حدیث : ۱۴۰۷ ۔
3 - بخاری ، کتاب الادب ، باب رحمة الولد وتقبیلہ ومعانقتہ ، ۴ / ۱۰۰ ، حدیث : ۵۹۹۸ ۔