یوں عیب تلاش کرنے والے اور جس کا عیب بیان کیا جائے ، دونو ں کی عزت و حرمت چلی جاتی ہے ، اس لئے دین ِاسلام نے عیبوں کی تلاش میں رہنے اور انہیں لوگوں کے سامنے شرعی اجازت کے بغیر بیان کرنے سے منع کیا اور اس سے باز نہ آنے والوں کو سخت وعیدیں سنائیں تاکہ ان وعیدوں سے ڈر کر لوگ اس بُرے فعل سے با ز آ جائیں اور سب کی عزت و حرمت کی حفاظت ہو ۔ (1)
سوال جانوروں کے حقوق کے متعلق دین اسلام نے ہمیں کیا تعلیم دی ہے ؟
جواب کثیر احادیث میں جانوروں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے ، ان کے لئے آسانی کرنے اور ان کے دانہ پانی کا خیال رکھنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ حضرت سہل بن حَنْظَلِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورتاجدارِ ختم نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی پیٹھ پیٹ سے مل گئی تھی تو ارشاد فرمایا : ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرو ، ان پر اچھی طرح سوار ہوا کرو اور انہیں اچھی طرح کھلایا کرو ۔ (2) اور حضرت مُسَیِّب بن دارِم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شُتربان کو مارا اور اس سے فرمایا : تم نے اپنے اونٹ پرا س کی طاقت سے زیادہ سامان کیوں لادا ہے ؟ (3)
________________________________
1 - تفسیر صراط الجنان ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۹ / ۴۳۸ ۔
2 - ابو داود ، کتاب الجھاد ، باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب والبھائم ، ۳ / ۳۲ ، حدیث : ۲۵۴۸ ۔
3 - طبقات ابن سعد ، رقم۳۰۰۵ ، المسیب بن دارم ، ۷ / ۹۱ ۔