جواب حضور نبیِ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص کی بیٹی ہو تو وہ اسے زندہ درگور نہ کرے ، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہتعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ (1) اورایک حدیث پاک میں ہے : جس کی تین بیٹیا ں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے معاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے تو اس کے لئے جنت ہے ۔ (2)
سوال اسلام میں صفائی ستھرائی کو کیا اہمیّت حاصل ہے ؟
جواب دِینِ اسلام نے جہاں انسان کو کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک کر کے عزت ورفعت عطا کی وہیں ظاہری طہارت ، صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعے انسانیّت کا وقار بلند کیا ، بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی ستھرائی ، ظاہری ہیئت کی عمدگی ہو یا طور طریقے کی اچھائی ، مکان اور سازو سامان کی بہتری ہو یا سواری کی دھلائی الغرض ہر ہر چیز کو صاف ستھرا اور جاذِبِ نظر رکھنے کی دِینِ اسلام میں تعلیم اور ترغیب دی گئی ہے ۔ (3) حضورتاجدارِ دو جہان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جو لباس تم پہنتے ہو اسے صاف ستھرا رکھو اور اپنی سواریوں کی دیکھ بھال کیا کرو اور تمہاری ظاہری ہیئت ایسی صاف ستھری ہو کہ جب لوگوں میں جاؤ تو وہ تمہاری عزت کریں ۔ (4)
________________________________
1 - ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی فضل من عال یتیماً ، ۴ / ۴۳۵ ، حدیث : ۵۱۴۶ ۔
2 - ترمذی ، کتاب البر والصلة ، باب ماجاء فی النفقةعلی البنات والاخوات ، ۳ / ۳۶۷ ، حدیث : ۱۹۲۳ ۔
3 - تفسیر صراط الجنان ، پ۱۱ ، التوبۃ ، تحت الایۃ : ۱۰۸ ، ۴ / ۲۴۰ ۔
4 - مستدرک حاکم ، کتاب اللباس ، باب حدیث مناظرة ابن عباس مع الحروریة ، ۵ / ۲۵۸ ، حدیث۷۴۴۹ ۔