درمیانی زمانہ) کہتے ہیں ، حشر اِس کے چالیس برس بعد ہوگا ۔ (1)
سوال میدانِ محشر میں حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو کیا حکم دیا جائے گا؟
جواب آپ عَلَیْہِ السَّلَامکوحکم ہوگا : ’’دوزخیوں کی جماعت الگ کرو ۔ “وہ عرض کریں گے : کتنوں میں سے کتنے ؟ ارشاد ہوگا : ”ہر ہزارمیں سے نو سوننانوے ۔ “ (2)
سوال اُمتِ محمدیہ میں سے کتنے افرادبے حساب جنت میں داخل ہو ں گے ؟
جواب حدیث شریف میں ہے : 70 ہزار افراد بے حساب جنت میں داخل ہوں گے جن میں سے ہر ایک کے ساتھ مزید 70 ہزار ہوں گے ۔ (3)
سوال قیامت میں لوگوں کو نامۂ اعمال کس طرح دیا جائے گا؟
جواب نیک لوگوں کو سیدھے ہاتھ میں اورگنہگاروں کو بائیں ہاتھ میں ۔ (4) اور کافر کا سینہ توڑ کر اُس کا بایاں ہاتھ پیچھے کی طرف نکال کر پیٹھ کے پیچھے سے دیاجائے گا ۔ (5)
سوال روزِ محشر ہر شے کے متعلق کتنے اور کون کون سے سوال ہوں گے ؟
جواب بروزِ قیامت ہر شے کے بارے میں تین سُوال ہوں گے : ( 1) تم نے یہ چیز کس طرح حاصِل کی؟ ( 2) اسے کہاں خرچ کیا اور ( 3) کس نیّت سے خرچ کیا؟ (6)
سوال نامَۂ اعمال تولے جاتے وقت نیکی کا پلڑا بھاری ہونے کا کیا مطلب ہے ؟
________________________________
1 - ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص۴۵۶ ۔
2 - بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قصة یاجوج وماجوج ، ۲ / ۴۱۹ ، حدیث : ۳۳۴۸ ۔
3 - مسند امام احمد ، حدیث عبدالرحمٰن بن ابی بکر ، ۱ / ۴۱۹ ، حدیث : ۱۷۰۶ ۔
4 - پ۲۹ ، الحاقة : ۱۹ ، ۲۵ ، ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر البعث ، ۴ / ۵۰۶ ، حدیث : ۴۲۷۷ ، ماخوذا ۔
5 - تفسیر قرطبی ، پ۳۰ ، الانشقاق ، تحت الآیة : ۱۹ ، ۱۰ / ۱۹۲ ۔
6 - منھاج العابدین ، الباب الثالث العقبة الثالثة وھی عقبة العوائق ، الفصل الخامس فی البطن وحفظہ ، ص۹۱ ۔