( یعنی دُور) ہوجائے گی ۔ (1)
سوال جب کان بجنے لگیں ( یعنی ان میں سنسناہٹ یا جھنجھناہٹ ہو) تو کیا کرنا چاہئے ؟
جواب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کسی کا کان بجنے لگے تووہ مجھ پردرود شریف پڑھے اور یہ کہے : ذَکَرَاللہُ بِخَیْرٍ مَّنْ ذَکَرَنِی یعنی اللہ تعالیٰ انہیں بھلائی کے ساتھ یاد کرے جنہوں نے مجھے ( بھلائی کے ساتھ) یاد فرمایا (2) ۔ (3)
مُقَدَّس مَقَامَات
سوال خانۂ کعبہ کتنی بار تعمیر کیاگیا؟
جواب شارحِ بخاریعلامہ احمد بن محمد قَسْطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : خانہ کعبہ کی تعمیر دس مرتبہ کی گئی ۔ (4)
سوال وہ کون سا پتھر ہے جس کا ذکر قرآنِ مجید میں دو جگہ فرمایا گیا ہے ؟
جواب تعمیرِ خانۂ کعبہ کے وقت جب دیواریں سر سے اونچی ہوگئیں تو حضرت سَیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک پتھر پر کھڑے ہوکر دیواروں کو مکمل فرمایا ، آپ کا معجزہ تھا کہ پتھر موم کی طرح نرم ہوگیااور قدموں کے نشان اس پر نَقْش ہوگئے
________________________________
1 - فیضان سنت ، ص۲۹۷ ۔
2 - وضاحت وشرح : کان بجنے کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے امتی کوعالَمِ ارواح میں ملاء اعلیٰ میں بھلائی کے ساتھ یاد فرماتے ہیں ، اسی لیے اُس وقت درود پڑھنے کا ارشاد فرمایا ۔ ( حاشیة علی القول البدیع ، الباب الخامس فی الصلاة ۔ ۔ ۔ الخ ، الصلاة علیہ عند طین الاذن ، ص۴۲۲)
3 - معجم اوسط ، ۶ / ۴۰۵ ، حدیث : ۹۲۲۲ ۔
4 - ارشاد الساری ، کتاب الحج ، باب فضل مکة وبنیانھا ، ۴ / ۱۰۳ ، تحت الحدیث : ۱۵۸۲ ۔