کی مسنون دعائیں جو عام طور پر بھی پوری پڑھا کرتے تھے اس وقت معمول سے زیادہ پڑھیں ، بارگاہِ الٰہی میں یوں دعا کی : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! سفر کی درازی کو میرے لئے مختصر فرمادے اور اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس سفر میں ہمیں کامیابی عطا فرما ۔ جب سینے پر دم آیا اس وقت کلمۂ طیبہ پڑھا ، جب بولنے کی طاقت نہ رہی اس وقت بھی لبہائے مبارکہ جنبش میں تھے کان لگا کر سنا تو اللہ ، اللہ کہہ رہے تھے ، چہرۂ مبارکہ پر ایک نور کی کرن چمکی اس کے غائب ہوتے ہی روح جسم اقدس سے پرواز کرگئی جبکہ مسجد سے مؤذِّن ”حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاح“کی صدادے رہا تھا ۔ (1)
سوال اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے کوئی تین خلفاء کے نام بتائیے ؟
جواب ( 1) صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی ( 2) صدرالافاضل محمد نعیم الدّین مراد آبادی اور ( 3) پروفیسر سید سلمان اشرف بہاری ( استاذعلی گڑھ) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ۔
سوال اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے والد ماجد کے وصال کے بعد تمام جائیداد کا اختیار کسے دے رکھا تھا؟
جواب جب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والد ماجد جناب مولانا نقی علی خان صاحب کا انتقال ہوا اپنے حصۂ جائیداد کے خود مالک تھے مگر سب اختیار والدۂ ماجدہ کے سپرد تھا ۔ وہ پوری مالکہ ومُتَصَرِّفَہ تھیں جس طرح چاہتیں صَرْف کرتیں ۔ جب مولانا کو کتابوں کی خریداری کے لئے کسی غیر معمولی ( زیادہ) رقم کی ضرورت پڑتی تو والدہ ماجدہ کی خدمت میں درخواست کرتے اور اپنی
________________________________
1 - فیضان اعلیٰ حضرت ، ص۶۴۵-۶۴۶ ، ماخوذ اً ۔