مجبور کرتے ہو تو لکھ لو ہمارا وصیت نامہ : اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلیعنی اللہ اور اس کے رسول عَزَّ وَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرو ۔ بس یہی کافی ہے اور اِسی میں دِین ودُنیا کی فلاح ہے ۔ (1)
اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سوال اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے کوئی دو اساتذہ کے نام بتائیے ؟
جواب ( 1) والد ماجدامامُ المتکلمین حضرت مولانامفتی نقی علی خان ( 2) حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا ۔ (2)
سوال اعلیٰ حضرت سے جناب مرزا غلام قادر بیگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کا کیا تعلق تھا؟
جواب امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اردو فارسی کی ابتدائی کتب مرزا غلام قادر بیگ صاحب سے پڑھیں ، بعد میں اِنہیں مرزا صاحب نے آپ سے ہدایہ کا سبق لیا گویا آپ ان کے شاگرد بھی تھے اور استاذ بھی ۔ (3) ایک زمانہ میں جناب مرزا صاحب کا قیام کلکتہ میں تھا ، وہاں سے اکثر سوالات جواب طلب بھیجا کرتے ۔ فتاویٰ رضویہ میں اکثر اِسْتِفتاء ان کے ہیں ۔ بڑے صاحبِ تقویٰ اور اعلیٰ حضرت کے فِدائی اور جاں نثار تھے ۔ (4)
سوال اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ’’ علمِ توقیت ‘‘ پر کس درجہ کا کمال حاصل تھا؟
________________________________
1 - شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ ، ص۱۱۷ ۔
2 - تجلیات امام احمد رضا ، ص۲۶ ۔
3 - فیضان اعلیٰ حضرت ، ص۸۹ ۔
4 - حیات اعلی حضرت ، ۱ / ۹۶ماخوذ ا ۔