جواب حُجَّۃ ُالْاسلام حضرت سیدنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کی مجلسِ علم میں تقریباً400 علماء و فضلاء حاضر ہوتے تھے ۔ (1)
سوال تُرْبَۃُ الْمُحَمَّدِیْنکس جگہ کا نام تھا ؟
جواب علاقہ ماوراء النہر اور سمرقند میں ایک ایسا قبرستان تھا جس میں فقہ حنفی کے ماہر علما جن میں سے ہر ایک کا نام محمد تھا چار سو کی تعداد میں دفن ہوئے ( اسی لئے ) اس قبرستان کا نام ہی” تُرْبَۃُ الْمُحَمَّدِیْن“ تھا ۔ (2)
غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم
سوال غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدین کے نام اور ان کی کنیت بتائیں؟
جواب حضور غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے والدکا نام ’’سیّدموسیٰ ‘‘ ، کنیت ’’ابو صالح‘‘ اور لَقَب’’ جنگی دوست ‘‘تھاجبکہ والدہ کانام فاطمہ اور ان کی کنیت ’’اُمُّ الْخَیرتھی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نسب دس واسطوں سے امام حسن بن علی رِضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ملتا ہے ۔ (3)
سوال شیخ عبدُ القادِر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے نانا جان کون تھے ؟
جواب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے نانا جان کا نام حضرت عبد اللہ صومعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھا ، آپ مستجابُ الدَّعَوَات بزرگ تھے ، ضعیفی اور بڑھاپے کے باوجود کثرت سے نوافل پڑھتے اور ہمیشہ ذِکْرُ اللہ کرتے رہتے تھے ۔ (4)
________________________________
1 - شذرات الذھب ، سنة خمس وخمس مائة ، ۴ / ۱۴۶ ۔
2 - بہارشریعت ، حصہ۱۹ ، ۳ / ۱۰۴۷ ۔
3 - بھجۃ الاسرار ، ذکر نسبہ وصفتہ ، ص ۱۷۱ ، ماخوذاً ۔
4 - بھجۃ الاسرار ، ذکر نسبہ وصفتہ ، ص ۱۷۱-۱۷۲ ۔