مُوازَنہ کیا جائے تو بھی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عقل زیادہ ہو گی ۔ (1)
سوال حضرت سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی تجارتی معاملات میں اِحتیاط کا کیا عالَم تھا؟
جواب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شریک ِ تجارت حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور مجھے مالِ تجارت بھیجتے ہوئے فرمایا کرتے : اے حفص ! فلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے ۔ جب تم اسے فروخت کروتو عیب بتادینا ۔ حضرت سیِّدُناحفص رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ مالِ تجارت فروخت کیااور بیچتے ہوئے عیب بتانابھول گئے ۔ جب امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو علم ہوا تو آپ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کر دی ۔ (2)
سوال جب امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے گوشہ نشینی کا ارادہ کیا تو آپ کو بارگاہِ رسالت سے کیا پیغام ملا؟
جواب امام الائمہ حضرت سیدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو خواب میں حضورنبی رحمت ، شفیع اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت ہوئی تو ارشاد فرمایا : اے ابو حنیفہ ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہیں میری سنت زندہ کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے ، تم گوشہ نشینی کا ہر گز قصد نہ کرو ۔ (3)
________________________________
1 - تبیض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفۃ النعمان ، ص۱۲۸ ۔
2 - تاریخ بغداد ، ۱۳ / ۳۵۶ ۔
3 - تذکرة الاولیاء ، ذکر امام ابو حنیفة رضی اللہ عنہ ، ص۱۸۶ ۔