سوا تمام حیوانات وغیرہ سنتے ہیں ۔ (1)
سوال قبر کا حساب کب سے شروع ہوا؟
جواب حسابِ قبر ہمارے حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے زمانہ سے شروع ہوا پچھلی اُمتوں میں نہ تھا نہ اُن سے ( ان کی قبروں میں) اپنے نبی کی پہچان کرائی جاتی تھی ۔ (2)
سوال وہ کونسے اَفراد ہیں جن سے قبر کا حساب نہیں ہوتا؟
جواب جن لوگوں سے قبر کا حساب نہیں ہوگا وہ یہ ہیں : ( 1) نبی ( 2) صدیق ( 3) شہید ( 4) جہاد کی تیاری کرنے والا ( 5) طاعون میں مرنے والا ( 6) طاعون کے علاوہ کسی اور بیماری میں مرنے والا جبکہ صبرکرے اور ثواب کی نیت کرے ( 7) چھوٹے بچے ( 8) جمعہ کے دن یا رات میں مرنے والا ( 9) ہر رات سورۂ مُلک پڑھنے والا ، ایک قول کے مطابق سورۂ حٰمٓ اَلسَّجْدَۃ کی تلاوت کرنے والا اور ( 10) مرضِ موت میں”قُلْ ہُوَ اللہُ“پڑھنے والا ۔ (3)
سوال کیا حسابِ قبر اور عذابِ قبر ایک ہی چیز ہے ؟
جواب جی نہیں ! حسابِ قبر اور ہے ، عذاب قبر کچھ اور ، بعض لوگ حسابِ قبر میں کامیاب ہوں گے مگر بعض گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ، جیسے چُغل خور اور گندا ( یعنی پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنے والا) ۔ (4)
________________________________
1 - بخاری ، کتاب الجنائز ، باب کلام المیت علی الجنازة ، ۱ / ۴۶۵ ، حدیث : ۱۳۸۰ ۔
2 - مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۲۵ ۔
3 - ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، ۳ / ۹۵ ۔
4 - مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۱۲۵ ۔