جواب حضور نبیِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوحِبْرُ الْاُمَّۃ ( یعنی امت کے بڑے عالم) کا لقب عطا فرمایا ۔ (1)
سوال صَاحِبُ النَّعْلِ وَالْوِسَادَۃ ( یعنی تکیہ ونَعْلَین والے ) کس صحابی کو کہا جاتا ہے ؟
جواب حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوکہا جاتا ہے کیونکہ آپ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نَعْلَین شریفین اورمبارک تکیہ اٹھایا کرتے تھے ۔ (2)
سوال بروزِ قیامت کس صحابی کو”اِمَامُ الْعُلَمَاء“ کہا جائے گا؟
جواب حضور جانِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں فرمایا : ’’قیامت میں ان کا لقب’’امام العلماء‘‘ ہے ۔ (3)
سوال حضرت سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کس وجہ سے اسلام قبول کیا تھا؟
جواب ابو جہل لعین نے حضور نبی مکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بہت زیادہ برا بھلا کہا توحضرت سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حرمِ کعبہ میں جاکرابوجہل کا سر پھاڑ دیا اورمسلمان ہوگئے ۔ (4)
سوال ذاتُ النَّطاقِین ( یعنی دو پٹکوں والی) کس خاتون کو کہا جاتا ہے ؟
جواب یہ حضرت سیِّدتُنا اسماء بنت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا لقب ہے ۔ (5)
________________________________
1 - مستدرک حاکم ، کتاب معرفة الصحابة ، باب حبر ھذہ الامة عبداللہ بن عباس ، ۴ / ۶۸۹ ، حدیث : ۶۳۳۵ ۔
2 - بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عبداللہ بن مسعود ، ۲ / ۵۴۹ ، حدیث : ۳۷۶۱ ۔
3 - اسد الغابة ، رقم۴۹۵۳ ، معاذ بن جبل ، ۵ / ۲۰۶ ۔
4 - مستدرک حاکم ، کتاب معرفة الصحابة ، ذکر اسلام حمزة بن عبد المطلب ، ۴ / ۱۹۵ ، حدیث : ۴۹۳۰ ۔
5 - الاستیعاب ، رقم۳۲۵۹ ، اسماء بنت ابی بکر ، ۴ / ۳۴۵ ۔