Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
268 - 360
جواب	وہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔  جنگ بدر کے دنوں میں آپ کی زوجہ شہزادیٔ رسول حضرت سیدتنارقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  زیادہ بیمار تھیں تو حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت سیدناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ طیبہ میں رہنے کا حکم دیا اور جنگِ بدر میں جانے سے روک دیا ، جس دن فتح بدر کی خبر مدینہ منورہ پہنچی اسی دن شہزادیٔ رسول کا انتقال ہوا ۔  حضرت سیدناعثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اگرچہ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگرحضورتاجدارِ دوجہاںصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں جنگِ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا ۔  (1) 
سوال 	حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہرجمعہ کو کیا خاص عمل کرتے تھے ؟ 
جواب 	امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :  اسلام لانے کے بعد میں نے ہر جمعہ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے ایک غلام آزاد کیا ، اگر اس وقت ممکن نہ ہوا تو بعد میں آزاد کیا ۔  (2) 
سوال	سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی والدہ کانام بتائیے اور ان کا حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کیا رشتہ تھا؟ 
جواب	آپ کی والدہ کا نام اَرْوٰی بنت کَرِیْز تھا اور یہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔  (3) 



________________________________
1 -     ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب عثمان بن عفان ، ۵ / ۳۹۴ ، حدیث : ۳۷۲۶ ۔ 
2 -     معجم کبیر ، ۱ /  ۸۵ ، حدیث : ۱۲۴ ۔ 
3 -     معجم کبیر ، ۱ /  ۷۴ ، حدیث : ۹۰ ۔