سوال کیا بروزِ قیامت شفاعتِ مصطفے ٰ سے کفار کو بھی کچھ حصہ ملے گا؟
جواب قیامت کے دن مرتبۂ شفاعتِ کُبریٰ حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی اور یہ شفاعتِ کُبریٰ مومن ، کافر ، مطیع ( فرمانبردار) ، عاصی ( گنہگار) سب کے لیے ہے کہ وہ انتظارِ حساب جو سخت جاں گُزا ہوگا اِس بلا سے چھٹکارا کفّار کو بھی حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی بدولت ملے گا ۔ (1)
سوال پَنگھوڑے میں حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انگلی کے اشارے پر چاند اِدھر سے اُدھرکیوں ہوتا تھا ؟
جواب حضرت سیِّدُنا عباس بن عَبْدُالْمُطَّلِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ! مجھے آپ کے دین میں آپ کی نبوّت کی علامت نے داخل کیا ہے ، وہ یہ کہ آپ جُھولے میں چاندسے کھیلتے تھے ، آپ انگلی سے جہاں اشارہ کرتے چاند وہیں جھک جاتا ۔ حضور مالک ومختار نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : میں چاند سے باتیں کرتا تھااور چاند مجھ سے باتیں کرتا تھا ، وہ مجھے رونے سے بہلاتا تھااور جب چاند عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتاتو میں اُس کے تسبیح کرنے کی آواز سنتا تھا ۔ (2)
________________________________
1 - بہار شریعت ، حصہ اول ، ۱ / ۷۰ ۔
2 - دلائل النبوة ، جماع ابواب صفة رسول اللہ ، باب ماجاء فی حفظ اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۴۱ ۔