جواب حضورتاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نسب شریف حضرت عدنان تک مُتَّفَق عَلَیْہ ہے مگر اُس سے آگے تعداد اورناموں میں اختلاف ہے ، نسبِ اَقدس یہ ہے : حضرت محمد مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بن عبدُ اللہ بن عبدالمطلب بن ہاشِم بن عبدِمَناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرہ بن کعب بن لُؤَی بن غالب بن فِہْر بن مالک بن نَضْر بن کَنانہ بن خُزیمہ بن مُدرِکَہ بن اِلیاس بن مُضَر بن نزار بن مَعَد بن عَدْنان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔ (1)
سوال حضورامامُ الانبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نسب مبارک کتنے واسطوں سے حضرت سیِّدُنا اسماعیل ذَبِیْحُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام تک پہنچتاہے ؟
جواب بخاری شریف کے مطابق حضرت عدنان تک 21واسطوں پراتفاق ہے ۔ (2) اس کے بعدحضرت سیدنا اسماعیل عَلَیْہِ السَّلَامتک واسطوں کے متعلق چار قول ہیں : سات ، نو ، پندرہ اور چالیس ۔ (3) شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : راجح چالیس ہی ہے ۔ (4)
سوال مبشروکریم آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُبارک آمد سے مُتَّصل کچھ واقعات بیان کیجئے ؟
جواب چند واقعات یہ ہیں : ( 1) بُت منہ کے بَل گِر پڑے ۔ (5) ( 2) فارَس کے مَجُوسِیوں
________________________________
1 - بخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب مبعث النبی ، ۲ / ۵۷۳ ۔
2 - بخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب مبعث النبی ، ۲ / ۵۷۳ ۔
3 - عمدة القاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب مبعث النبی ، ۱۱ / ۵۶۳ ۔
4 - نزہۃ القاری ، ۴ / ۶۷۴ ۔
5 - سیرة حلبية ، باب ذکر مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱ / ۱۰۳ ۔