کرنااور ( 3) اُس کی مصیبت پر خوش ہونا ۔ (1)
سوال حاسد کو حسد کب نقصان دیتا ہے ؟
جواب حضور نبیٔ کریم ، رَءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : حاسد کو اس کا حسد اس وقت تک نقصان نہیں دیتا جب تک وہ زبان سے نہ بولے یا ہاتھ سے اس پر عمل نہ کرے ۔ (2)
سوال وہ کونسی چیز ہے جو حسد میں کمی کا سبب بنتی ہے ؟
جواب حضرت سیدنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے : جو موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرے اُس کے حَسَد اور خوشی میں کمی آجائے گی ۔ (3)
سوال ’’مَخْمُومُ الْقَلْب‘‘کسے کہتے ہیں؟
جواب بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی : لوگوں میں افضل کون ہے ؟ حضورنبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : مَخْمُومُ الْقَلْب صَدُوْقُ اللِّسَان ۔ صحابۂ کرام نے عرض کی : صَدُوْقُ اللِّسَانیعنی سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہے مگر یہ مَخْمُومُ الْقَلْب کون ہوتا ہے ؟ ارشاد فرمایا : وہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والا ، ہر قسم کے گناہ ، سَرکشی ، دھوکا دہی اور حَسَد سے بچنے والا ہو ۔ (4)
سوال حدیث مبارکہ میں حسد سے بچنے کا کیا علاج بتایا گیا ہے ؟
جواب حضورنبیِ اکرم ، شفیعِ اعظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تین
________________________________
1 - حلیة الاولیاء ، وھب بن منبہ ، ۴ / ۵۰ ، رقم : ۴۷۰۹ ۔
2 - کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، الحسد ، ۳ / ۱۸۶ ، حدیث : ۷۴۴۴ ۔
3 - احیاء علوم الدين ، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ، بیان ذم الحسد ، ۳ / ۲۳۳ ۔
4 - ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الورع والتقوی ، ۴ / ۴۷۵ ، حدیث : ۴۲۱۶ ۔