Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
241 - 360
کرنااور (  3) اُس کی مصیبت پر خوش ہونا ۔  (1) 
سوال	 حاسد کو حسد کب نقصان دیتا ہے ؟ 
جواب	حضور نبیٔ کریم ، رَءُ وْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  حاسد کو اس کا حسد اس وقت تک نقصان نہیں دیتا جب تک وہ زبان سے نہ بولے یا ہاتھ سے اس پر عمل نہ کرے ۔  (2) 
سوال	وہ کونسی چیز ہے جو حسد میں کمی کا سبب بنتی ہے ؟ 
جواب	حضرت سیدنا ابو دَرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے : جو موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرے اُس کے حَسَد اور خوشی میں کمی آجائے گی ۔  (3) 
سوال	’’مَخْمُومُ الْقَلْب‘‘کسے کہتے ہیں؟ 
جواب	بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی  : لوگوں میں افضل کون ہے ؟ حضورنبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  مَخْمُومُ الْقَلْب صَدُوْقُ اللِّسَان ۔  صحابۂ کرام  نے عرض کی  :  صَدُوْقُ اللِّسَانیعنی سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہے مگر یہ مَخْمُومُ الْقَلْب کون ہوتا ہے ؟ ارشاد فرمایا :  وہ جواللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے والا ، ہر قسم کے گناہ ، سَرکشی ، دھوکا دہی اور حَسَد سے بچنے والا  ہو ۔  (4) 
سوال	حدیث مبارکہ میں حسد سے بچنے کا کیا علاج بتایا گیا ہے ؟ 
جواب	حضورنبیِ اکرم ، شفیعِ اعظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تین



________________________________
1 -     حلیة الاولیاء ، وھب بن منبہ ، ۴ /  ۵۰ ، رقم : ۴۷۰۹ ۔ 
2 -     کنزالعمال ، کتاب الاخلاق ، الحسد ، ۳ /  ۱۸۶ ، حدیث : ۷۴۴۴ ۔ 
3 -     احیاء علوم الدين ، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ، بیان ذم الحسد ، ۳ /  ۲۳۳ ۔ 
4 -     ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب الورع والتقوی ، ۴ /  ۴۷۵ ، حدیث : ۴۲۱۶ ۔