Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
234 - 360
سوال	بزرگانِ دِین دوسروں  کے متعلق منفی باتیں کرنے والوں کی اصلاح کیسے کرتے  تھے ؟ 
جواب	امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمتِ با بَرَکت میں ایک شخص حاضِر ہوا اور اُس نے کسی کے بارے میں کوئی مَنفی  (  NEGATIVE) بات کی ۔  آپ نے فرمایا  : اگر تم چاہو تو ہم تمہارے مُعامَلے کی تحقیق کریں     اور اگر تم چاہو تو ہم تمہیں مُعاف کر دیں؟ اُس نے عرض کی :  یَااَمِیْرَالْمُؤْمِنِین !  مُعاف کر دیجئے آئندہ میں ایسا  (  یعنی غیبت اور چغلخوری) نہیں کروں گا ۔  (1) 
سوال	 غیبت کرنے والوں سے کس طرح پیچھا چھڑایا جائے ؟ 
جواب	اُس کو مناسِب طریقے پر روک دیجئے ، اگر وہ باز نہ آئے تو وہاں سے اُٹھ جایئے ، اگر اُسے روکنا یا اپنا وہاں سے ہٹنا ممکن نہ ہو تو دل میں بُرا جانئے ، ترکیب سے بات بدل دیجئے اُس گفتگو میں دلچسپی مت لیجئے ، مَثَلاً اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جایئے ، منہ پر بیزاری کے آثار لایئے ، بار بار گھڑی دیکھ کر اُکتاہٹ کا اِظہار فرمایئے ، ممکن ہوتو استنجا خانے کا کہہ کرہی اٹھ جایئے اور پھرآپ کا کہا جھوٹ نہ ہو جائے اس لئے استنجا بھی کرلیجئے ۔ ”غیبت گاہ“میں حاضِر رہنے کے بجائے مجبوراً استنجا خانے میں وقت گزارنا بَہُت مناسِب عمل ہے ۔  اِنْ شَاءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر بھی ثواب ملے گا ۔  (2) 



________________________________
1 -     تنبیہ الغافلین ، باب النمیمة ، ص ۹۲ ۔ 
2 -     غیبت کی تباہ کاریاں ، ص ۲۱۴ ۔