سوال بزرگانِ دِین دوسروں کے متعلق منفی باتیں کرنے والوں کی اصلاح کیسے کرتے تھے ؟
جواب امیرالمومنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمتِ با بَرَکت میں ایک شخص حاضِر ہوا اور اُس نے کسی کے بارے میں کوئی مَنفی ( NEGATIVE) بات کی ۔ آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو ہم تمہارے مُعامَلے کی تحقیق کریں اور اگر تم چاہو تو ہم تمہیں مُعاف کر دیں؟ اُس نے عرض کی : یَااَمِیْرَالْمُؤْمِنِین ! مُعاف کر دیجئے آئندہ میں ایسا ( یعنی غیبت اور چغلخوری) نہیں کروں گا ۔ (1)
سوال غیبت کرنے والوں سے کس طرح پیچھا چھڑایا جائے ؟
جواب اُس کو مناسِب طریقے پر روک دیجئے ، اگر وہ باز نہ آئے تو وہاں سے اُٹھ جایئے ، اگر اُسے روکنا یا اپنا وہاں سے ہٹنا ممکن نہ ہو تو دل میں بُرا جانئے ، ترکیب سے بات بدل دیجئے اُس گفتگو میں دلچسپی مت لیجئے ، مَثَلاً اِدھر اُدھر دیکھنے لگ جایئے ، منہ پر بیزاری کے آثار لایئے ، بار بار گھڑی دیکھ کر اُکتاہٹ کا اِظہار فرمایئے ، ممکن ہوتو استنجا خانے کا کہہ کرہی اٹھ جایئے اور پھرآپ کا کہا جھوٹ نہ ہو جائے اس لئے استنجا بھی کرلیجئے ۔ ”غیبت گاہ“میں حاضِر رہنے کے بجائے مجبوراً استنجا خانے میں وقت گزارنا بَہُت مناسِب عمل ہے ۔ اِنْ شَاءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر بھی ثواب ملے گا ۔ (2)
________________________________
1 - تنبیہ الغافلین ، باب النمیمة ، ص ۹۲ ۔
2 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص ۲۱۴ ۔