Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
233 - 360
		کرنی چاہئے کہ اس کے غیبت کرنے کی وجہ سے تمہیں ثواب حاصل ہو رہا ہے ! اگر چِہ اُس نے اِس بات کا قَصد (  یعنی ارادہ) نہیں کیا  ۔ مزید فرماتے ہیں : جو شخص اُس آدمی پر غصّہ کرے جس کی نیکیاں اپنے ہاتھ آرہی ہیں وہ بے وُقُوف ہے ، البتہ کسی شَرعی وجہ سے غَضَب ناک ہونا صحیح ہے ۔  (1)   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ارشادِ گرامی سے ہمیں یہ بھی درس مل رہا ہے کہ اگر غیبت کرنے والے کے ساتھ جوابی کاروائی کی گئی تو نفر ت کی دیوار مزید مضبوط ہو جائے گی ، فسادبڑھے گا او ر اگر اُس کو مَحَبَّت سے سمجھانے کی کوشش کی گئی تو اِنْ شَآءَالله عَزَّ  وَجَلَّوہ غیبت ہی سے باز آجائے گا ۔  (2) 
سوال	کیا غیبت وفضول گوئی میں کوئی بڑاخطرہ بھی ہے ؟ 
جواب	جی ہاں  ! ایک بڑا خطرہ ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم ارشاد فرماتے ہیں  : میں کوہِ لبنان میں کئی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلَام کی صحبت میں رہا ان میں سے ہرایک نے مجھے یہی وصیّت کی کہ جب لوگوں میں جاؤ توانہیں ان چار باتوں کی نصیحت کرنا  :   (  1) جو پیٹ بھر کر کھائے گا اُسے عبادت کی لذّت نصیب نہیں ہوگی (  2) جو زیادہ سوئے گا اس کی عمر میں بَرَکت نہ ہوگی  (  3) جو صِرف لوگوں کی خوشنودی چاہے گا وہ رِضائے الٰہی سے مایوس ہو جائے گا اور  (  4) جو غیبت او ر فُضُول گوئی زیادہ کرے گا وہ دینِ اسلام پر نہیں مرے گا ۔  (3) 



________________________________
1 -     تنبیہ المغترین ، الباب الثالث فی جملة اخری من الاخلاق ، ومن اخلاقھم سد باب الغیبة     الخ ، ص۱۹۳ ۔ 
2 -     غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۲۶ ۔ 
3 -     منھاج العابدین ، العائق الرابع النفس ، الفصل الخامس فی البطن وحفظہ ، ص۹۸ ۔