سوال غیبت میں شرکت اور غیبت کرنے والے کی حوصلہ افزائی کیسے ہوتی ہے ؟
جواب غیبت سننے پر خوش ہونا اور اس کی طرف توجّہ سے کان لگانا ، دلچسپی لیتے ہوئے ہاں ، ہوں ، ہیں ، جی وغیرہ آوازیں نکالنا بھی غیبت ہے ۔ غیبت سننے والے کی اِس حَرَکت سے غیبت کرنے والے کو مزیدتقویّت ملتی ہے اور وہ مزید بڑھ چڑھ کر غیبت کرتا ہے ، اِسی طرح غیبت سُن کر خوشی اور تَعَجُّب کااظہار بھی گناہ ہے مَثَلاًحیرت کے ساتھ کہنا : ارے ! یہ ایسا شخص ہے ! میں تو اِس کو اچھا آدمی سمجھتا تھا ۔ دلچسپی کے ساتھ غیبت سننے ، تَعَجُّب کا اظہار کرنے ، ہاں میں ہاں ملانے کے انداز میں سَرہِلانے وغیرہ میں غیبت کرنے والے کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کا سامان ہے بلکہ ایسے موقع پر بلا اجازتِ شرعی خاموش رہنے والا بھی غیبت میں شریک ہی مانا جائے گا ۔ (1)
سوال سیدنا فقیہ ابو اللیث رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے غیبت کی کتنی اقسام فرمائی ہیں؟
جواب حضرت سیدنا فقیہ ابو اللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا کہ غیبت چارقسم کی ہے : ( ۱) کفر ( ۲) نفاق ( ۳) معصیت ( ۴) مباح ۔ (2)
سوال جس کی غیبت کی گئی وہ غیبت کرنے والے کے ساتھ کیسا برتاؤکرے ؟
جواب حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدالوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی فرماتے ہیں : اپنی غیبت کرنے والے پر مُشتَعِل ( یعنی غصّے ) ہونامناسِب نہیں اُس سے تو تمہیں مَحَبَّت
________________________________
1 - احیاء علوم الدين ، کتاب آفات اللسان ، الافة الخامسة عشرة الغیبة ، بیان ان الغیبة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۱۸۰ ۔
غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۶۹ ۔
2 - تنبیہ الغافلین ، باب الغیبة ، ص۸۹ ۔