Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
231 - 360
جواب	حضورنبیٔ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اُس کا کھلا ہوا نامۂ اَعمال لایا جائے گا ، وہ کہے گا :  میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائے گا : تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں ۔  (1) منقول ہے : آگ بھی خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر راکھ کردیتی ہے ۔  (2) 
سوال	کیا غیبت صرف زبان سے ہی ہوتی ہے ؟ 
جواب	غیبت صِرف زبان ہی سے نہیں اور طریقوں سے بھی ہوتی ہے ۔ مثَلاً :  (  1) اشارے سے (  2) لکھ کر (  3) مُسکرا کر (  مَثَلاًآپ کے سامنے کسی کی خوبی بیان ہوئی اور آ پ  طنزیہ انداز میں مسکرا دئے جس سے ظاہِر ہوتا ہو کہ”تم بھلے تعریف کئے جاؤ ، میں اِس کو خوب جانتا ہوں ۔ “)  (  4) دل کے اند ر غیبت کرنا یعنی بد گُمانی کو دل میں جَما لینا ۔ مَثَلاً بِغیر دیکھے بِلا دلیل یا بِغیر کسی واضِح قرینے کے ذِہن بنا لینا کہ” فُلاں میں وفا نہیں ہے ۔ “یا” فُلاں نے ہی میری چیز چُرائی ہے ۔ “یا”فُلاں نے یوں ہی گپ لگا دیا ہے ۔ “وغیرہ (  5) اَلْغَرَض ہاتھ ، پاؤں ، سر ، ناک ، ہونٹ ، زَبان ، آنکھ ، اَبرو ، پیشانی پر بل ڈال کریا لکھ کر ، فون پر SMS کر کے ، انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذَرِیعے ، برقی ڈاک  (  یعنیE.MAIL) سے یا کسی بھی انداز سے کسی کے اندر موجود بُرائی یا خامی دوسرے کو بتائی جائے وہ غیبت میں داخِل ہے ۔  (3) 



________________________________
1 -     الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب الترھیب من الغیبة والبھت     الخ ، ۳ /  ۴۰۶ ، حدیث : ۴۳۶۴ ۔ 
2 -     احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان ، الآ       فة الخامسة عشرة الغیبة ، بیان العلاج الذی یمنع     الخ ، ۳ /  ۱۸۳ ۔ 
3 -     غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۵۳ ۔