جواب حضورنبیٔ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اُس کا کھلا ہوا نامۂ اَعمال لایا جائے گا ، وہ کہے گا : میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائے گا : تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں ۔ (1) منقول ہے : آگ بھی خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر راکھ کردیتی ہے ۔ (2)
سوال کیا غیبت صرف زبان سے ہی ہوتی ہے ؟
جواب غیبت صِرف زبان ہی سے نہیں اور طریقوں سے بھی ہوتی ہے ۔ مثَلاً : ( 1) اشارے سے ( 2) لکھ کر ( 3) مُسکرا کر ( مَثَلاًآپ کے سامنے کسی کی خوبی بیان ہوئی اور آ پ طنزیہ انداز میں مسکرا دئے جس سے ظاہِر ہوتا ہو کہ”تم بھلے تعریف کئے جاؤ ، میں اِس کو خوب جانتا ہوں ۔ “) ( 4) دل کے اند ر غیبت کرنا یعنی بد گُمانی کو دل میں جَما لینا ۔ مَثَلاً بِغیر دیکھے بِلا دلیل یا بِغیر کسی واضِح قرینے کے ذِہن بنا لینا کہ” فُلاں میں وفا نہیں ہے ۔ “یا” فُلاں نے ہی میری چیز چُرائی ہے ۔ “یا”فُلاں نے یوں ہی گپ لگا دیا ہے ۔ “وغیرہ ( 5) اَلْغَرَض ہاتھ ، پاؤں ، سر ، ناک ، ہونٹ ، زَبان ، آنکھ ، اَبرو ، پیشانی پر بل ڈال کریا لکھ کر ، فون پر SMS کر کے ، انٹرنیٹ پر چیٹنگ کے ذَرِیعے ، برقی ڈاک ( یعنیE.MAIL) سے یا کسی بھی انداز سے کسی کے اندر موجود بُرائی یا خامی دوسرے کو بتائی جائے وہ غیبت میں داخِل ہے ۔ (3)
________________________________
1 - الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب الترھیب من الغیبة والبھت الخ ، ۳ / ۴۰۶ ، حدیث : ۴۳۶۴ ۔
2 - احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان ، الآ فة الخامسة عشرة الغیبة ، بیان العلاج الذی یمنع الخ ، ۳ / ۱۸۳ ۔
3 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۵۳ ۔