سوال کسی کی غیبت سننا کیسا ہے ؟
جواب حضورسرورِ کونین ، شہنشاہِ دارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے گانا گانے اور گانا سننے سے ، غیبت کرنے اور غیبت سننے سے اور چغلی کرنے اور چغلی سننے سے منع فرمایا ۔ (1) حضرتِ علامہ عبد الرَّء ُوْف مُناوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی فرماتے ہیں : غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والوں میں سے ایک ہوتا ہے ۔ (2)
سوال غیبت سے توبہ کا طریقہ بیان کیجئے ؟
جواب جس کی’’غیبت‘‘کی اُس کو پتا نہیں چلا تو اُس سے مُعافی مانگنا ضَروری نہیں ۔ اللہ غَفَّارعَزَّوَجَلَّ کے دربارمیں توبہ واستِغفار کیجئے اور دل میں پکّا عہد کیجئے کہ آئندہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا ۔ اگر اُس کو معلوم ہو گیا ہے تو اُس کے پاس جا کر غیبت کے مقابِل اُس کی جائز تعریف ، اور اس سے مَحَبَّت کا اظہار کیجئے ، تاکہ اُس کا دل خوش ہو اور عاجِزی کے ساتھ عرض کیجئے کہ میں نے جو آپ کی غیبت کی ہے اُس پر نادِم ہوں مجھے مُعاف فرمادیجئے ۔ اب بالفرض وہ مُعاف نہ بھی کرے تب بھی اِنْ شَاءَ اللہ آخِرت میں مُوَ اخَذَہ نہ ہوگا ۔ ہاں اگر رَسْمی طور پر ( SORRYکہہ دیا) بِلااِخلاص مُعافی مانگی اور اُس نے مُعاف کر بھی دیا تب بھی آخِرت میں مُو اخَذے ( یعنی پوچھ گچھ) کا خوف باقی ہے ۔ (3)
سوال غیبت انسان کی نیکیوں پر کیا اثرات ڈالتی ہے ؟
________________________________
1 - تاریخ بغداد ، ابو محمد الحکم بن مروان الکوفی ، ۸ / ۲۲۱ ، رقم : ۴۳۳۷ ۔
2 - فیض القدیر ، ۳ / ۶۱۲ ، تحت الحدیث : ۳۹۶۹ ۔
3 - غیبت کی تباہ کاریاں ، ص ۲۹۱ ۔