سوال بندوں کو بھٹکانے کی قسم کھانے پر شیطان کو بارگاہِ الٰہی سے کیا جواب مِلا؟
جواب حضرت سیدنا ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورِاکرم ، شفیعِ اعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : شیطا ن نے کہا : اے میرے رب ! تیری عزت و جلال کی قسم ! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں ، میں انہیں بھٹکاتا رہوں گا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا : میری عزت و جلا ل کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گا ۔ (1)
سوال حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکے بکثرت استغفار کی حکمت بیان کیجئے ؟
جواب انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممعصوم ہیں ، اُن سے گناہ صادِر نہیں ہوتے ۔ اُن کا اِستغفار کرنا در اصل اپنے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی و اِنکساری کا اظہار ہے اوراس میں اُمَّت کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ مغفرت طلب کرتے رہا کریں ۔ (2)
سوال معاشی ومعاشرتی زندگی میں استغفار کے کیا فوائد ہیں؟
جواب حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جس نے استغفار کو اپنے لئے لازم کرلیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا ۔ (3)
________________________________
1 - مسند امام احمد ، مسند ابی سعید الخدری ، ۴ / ۵۹ ، حدیث : ۱۱۲۴۴ ۔
2 - مدارک ، پ۱۹ ، الشعراء ، تحت الآیة : ۸۲ ، ص۸۲۳ ، حدیقة ندیة ، الباب الثانی الخ ، الفصل الاول الخ ، ۱ / ۲۸۸ ۔
3 - ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب الاستغفار ، ۴ / ۲۵۷ ، حدیث : ۳۸۱۹ ۔