جواب حضور نبی غیب دان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں : مؤمن جب گناہ کرتاہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے پھر اگر وہ توبہ کرے اورمغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتاہے اوراگر توبہ نہ کرے تو وہ نکتہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتاہے ۔ (1) یعنی وہ سیاہ نکتہ پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے اور یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یوں فرمایا ہے : ( كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴)) ( پ۳۰ ، المطففین : ۱۴) ترجمۂ کنزالا یمان : کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے ۔
سوال توبہ اور استغفار میں کیا فرق ہے ؟
جواب توبہ اور استغفار میں فرق یہ ہے کہ جو گناہ ہو چکے ان سے معافی مانگنا استغفار ہے اور پچھلے گناہوں پر شرمندہ ہو کر آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کر نا توبہ ہے ۔ (2)
سوال استغفار کے لیے بہتر وقت کونسا ہے ؟
جواب بہتر یہ ہے کہ نمازِ فجر کے وقت سنتِ فجر کے بعد فرض سے پہلے 70بار پڑھا کرے کہ یہ وقت استغفار کے لیے بہت ہی موزوں ہے ، رب تعالیٰ فرماتاہے : ( وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۱۸)) ( پ۲۷ ، الذٰریٰت : ۱۸) ترجمۂ کنز الایمان : اور پچھلی رات اِستغفار کرتے ۔ (3)
________________________________
1 - ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر الذنوب ، ۴ / ۴۸۸ ، حدیث : ۴۲۴۴ ۔
2 - تفسیر صراط الجنان ، پ۱۱ ، ھود ، تحت الآیۃ : ۳ ، ۴ / ۳۹۳ ۔
3 - مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۶۳ ۔