طرح پگھلتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے ۔ (1)
سوال سچی توبہ کرنے والے کے متعلق حدیث شریف میں کیا فرمایا گیا ہے ؟
جواب حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَاذَنْبَ لَہیعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔ (2)
سوال سچی توبہ کرنے والے کو بارگاہِ الٰہی سے کیا انعام ملتا ہے ؟
جواب جب بندہ اپنی توبہ میں سچا ہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کِرَاماً کَاتِبِیْن ( یعنی اعمال لکھنے والے فرشتوں) کوان کے لکھے ہوئے اَعمال بُھلا دیتا ہے اور زمین کو حکم فرماتا ہے کہ میرے بندے کا گناہ چھپا دے ۔ (3)
سوال کسی کو گناہ میں مبتلا دیکھ کرکیا کہنا چاہیے ؟
جواب حضرت سیدنا ابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے کسی بھائی کو دیکھو کہ کسی گناہ میں مبتلاہوگیا ہے تو اُس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو کہ تم یوں کہو : اللہتعالیٰ اسے رسوا کرے ، اللہتعالیٰ اِس کا بُرا کرے ۔ بلکہ یوں کہو : اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرمائے اوراس کی مغفرت فرمائے ۔ (4)
سوال گناہ کے بعد بھی توبہ نہ کی جائے تو اس کا دل پر کیا اثر پڑتا ہے ؟
________________________________
1 - الروض الفائق ، المجلس الرابع فی مناقب الصالحین ، ص۳۵ ۔
2 - ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر التوبة ، ۴ / ۴۹۱ ، حدیث : ۴۲۵۰ ۔
3 - الروض الفائق ، المجلس الثانی فی قولہ تعالی : الرحمٰن علّم القراٰن ، ص۱۵ ۔
4 - مکارم الاخلاق للطبرانی ، باب فضل الصبر والسماحة ، ص۳۲۴ ، حدیث : ۳۵ ۔