( 1) ( فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ) ( پ۲۶ ، الاحقاف : ۳۵) ترجمۂ کنز الایمان : تم صبر کرو جیسا ہمّت والے رسولوں نے صبر کیا ۔ ( 2) ( اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)) ( پ۲ ، البقرۃ : ۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔ ( 3) ( وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا ) ( پ۱۴ ، النحل : ۹۶) ترجمۂ کنز الایمان : اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کوان کا صلہ ديں گے ۔
سوال حضرت علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے صبر کے متعلق کیا فرمایا ہے ؟
جواب امیرالمومنین حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا : صبر ایمان کے لیے ایسے ہی ہے جس طرح جسم کے لیے سرہوتا ہے ، اگر سر کاٹ دیا جائے تو باقی جسم بے کار ہوجاتا ہے اور جو صبر نہیں کرتا اُس کا ایمان کامل نہیں ہوتا ۔ (1)
سوال قرآنِ کریم میں صبر کی کتنی صورتیں بیان کی گئی ہیں؟
جواب حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں صبر کی تین صورتیں بیان ہوئیں : ( 1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے عائد فرائض کی ادائيگی پر صبر کرنا اوراس کے تين سو دَرَجا ت ہيں ۔ ( 2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے حرام کردہ چیزوں پر صبر کرنا اور اس کے چھ سو دَرَجات ہيں اور ( 3) مصيبت پر پہلے صدمے کے وقت صبرکرنا اور اس کے نو سو درجا ت ہيں ۔ (2)
سوال صبر کی فضیلت پر کوئی فرمانِ مصطفے ٰ سنائیے ؟
جواب ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : ایمان کیا ہے ؟ توحضور نبئ پاک ،
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب ، ۷ / ۱۲۴ ، حدیث : ۹۷۱۸ ۔
2 - لباب الاحیاء ، الباب الثانی والثلاثون فی الصبر والشکر ، ص۲۷۶ ۔