جواب حضور سرورِ کونین ، شہنشاہِ دارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جس میں یہ تین باتیں ہوں گی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا حساب آسان طریقے سے لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا : ( 1) جو تمہیں محروم کرے تم اس کو عطا کرو ( 2) جوتم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو اور ( 3) جو تم سے رشتہ توڑے تم اس سے رشتہ جوڑو ۔ (1)
سوال اگر کوئی رشتہ داروں سے مالی تعاون نہ کرسکے تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟
جواب حضرت سیدنا امام فقيہ ابو الليث سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہيں : اگر کسی شخص کے رشتہ دار قريب ہوں تو اس پر لازم ہے کہ تحائف و ملاقات کے ذريعہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کرے ، اگر مالی طور پر صلۂ رحمی پر قادر نہ ہو تو ان سے مِلا کرے اور ضرورتاً ان کے کاموں میں ہاتھ بٹائے اور اگر دور ہوں تو ان سے مُراسَلت ( یعنی خط وکتابت) کرے اور ( سفر کرکے ) ان کے پاس جانے کی طاقت رکھتا ہوتو ( خط لکھنے سے ) خود جانا افضل ہے ۔ (2)
سوال کیا ہررشتہ دار کے ساتھ ایک ہی طرح کی صلہ ٔرحمی کا حکم ہے ؟
جواب جی نہیں ! رِشتے میں چُونکہ مختلف دَرَجات ہیں ( اسی طرح) صِلَۂ رِحم ( یعنی رشتے داروں سے حُسنِ سُلوک) کے دَرَجات میں بھی تفاوُت ( یعنی فرق) ہوتا ہے ۔ والِدَین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے ، ان کے بعد ذُورِحم مَحرم کا ، ( یعنی وہ رشتے دار جن سے نسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) ان کے بعد بَقِیَّہ
________________________________
1 - معجم اوسط ، ۱ / ۲۶۳ ، حدیث : ۹۰۹ ۔
2 - تنبیہ الغافلین ، باب صلة الرحم ، ص۷۳ ۔