Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
212 - 360
 رکھے  (  5) فیصلہ دینے میں حق کی رعایت کرے جس کا دوسرے پر حق ہو پورا پورا دِلائے ۔  (1) 
سوال	سیرتِ نبوی سے عدل و انصاف کے قیام کی کوئی مثال بیان کیجئے ؟ 
جواب 	اُمُّ المومنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  فرماتی ہیں  :  قبیلۂ قریش کی ایک عورت نے چوری کی تو اس کے خاندان والوں نے حضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو بارگاہِ رسالت میں سفارش کے لئے کہا ، انہوں نے سفارش کی توحضورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو؟ پھر کھڑے ہوکر خطبہ دیا ، ارشاد فرمایا :  تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ جب ان میں سے کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم !  اگر فاطمہ بنتِ محمدبھی چوری کر لیتی تو میں اس کابھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔  (2) 
سوال	سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے عدل و انصاف کی کوئی مثال دیجئے ؟ 
جواب 	امیر المومنین سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا دورِ خلافت عدل و انصاف کی بالادستی کا بہترین نمونہ ہے ، آپ فیصلہ کرنے میں کسی امیر وغریب کا لحاظ نہ فرماتے ۔ منقول ہے کہ مُلکِ غَسَّان کے بادشاہ جَبِلَّہ بن اَیْہَم نے حاضرِ خدمت ہوکر اپنے ساتھیوں سمیت اسلام قبول کیا ، ایک روز ایک دیہاتی  کا پاؤں جبلہ 



________________________________
1 -     خزائن العرفان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۵۸ ، ص١٧١ ۔ 
2 -     بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب۵۶ ، ۲ /  ۴۶۸ ، حدیث : ۳۴۷۵ ۔