Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
210 - 360
		کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو مگر اس وقت بھی اسے عدل کا حکم دیا گیا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَۚ-) (  پ۵ ، النساء : ۱۳۵) تَرْجَمَۂ کنزالایمان : زاے ایمان والو انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لئے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو یا ماں باپ کا یا رشتہ داروں کا ۔ نیزارشادفرمایا ( وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۚ-) (  پ۸ ، الانعام :  ۱۵۲) تَرْجَمَۂ کنز الایمان : اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں :  خواہ گواہی دو یا فتویٰ یا حاکم بن کر فیصلہ کرو کچھ بھی ہو انصاف سے ہو اس میں قرابت یا وجاہت کا لحاظ نہ ہو ۔  سُبْحٰنَ اللہ اس آیت کی تفسیر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور خلفاء راشدین کی زندگی شریف ہے ، یہی عدل وانصاف مومن کا طُرَّۂ امتیاز ہے  ۔  (1) 
سوال 	بروزِ قیامت آدمی کو عدل کس طرح کام آئے گا؟ 
جواب 	حضور نبی کریم ، رءوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں : جو شخص دنیا میں دس افراد پر امیر بنااُسے میدانِ محشر میں طوق پہنا کر لایا جائے گا اور اسے اس بندھن سے اس کاعدل ہی چھڑا سکے گا ۔  (2) 
سوال	عدل نہ کرنے والے کا آخرت میں کیا انجام ہوگا؟ 
جواب 	حدیثِ پاک میں ہے  :  جو شخص اس اُمَّت کے کسی معاملے کا والی بنا اور اس نے



________________________________
1 -     نور العرفان ، پ۸ ، الانعام ، تحت الآیۃ : ۱۵۲ ، ص۲۳۵ ۔ 
2 -     مسند امام احمد ، حدیث سعد بن عبادة ، ۸ /  ۳۳۹ ، حدیث : ۲۲۵۲۶ ۔