جواب عدل اَقوال اور اَفعال میں انصاف و مُساوات کا نام ہے ۔ (1)
سوال قرآنِ کریم میں عدل و انصاف کے بارے میں کیا حکم دیا گیا؟
جواب قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-) ( پ۵ ، النساء : ۵۸) ترجمۂ کنزالایمان : ’’جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ ‘‘ ایک مقام پرارشاد فرمایا : ( وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)) ( پ۲۶ ، الحجرات : ۹) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ ‘‘
سوال احادیث میں عدل کرنے والوں کی کیا فضیلت بیان کی گئی ہے ؟
جواب حضور امامُ العادِلین ، راحت العاشقین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : بے شک عدل و انصاف کرنے والے اللہتعالیٰ کے دربار میں نور کے منبروں پر ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں ، اپنے گھر والوں کے بارے میں اور ان تمام کاموں میں جن کے وہ والی بنے ہیں عدل کرتے ہیں ۔ (2) نیزبخاری شریف کی حدیث پاک کے مطابق بروزقیامت سایۂ عرش پانے والوں میں سے ایک عادل حکمران بھی ہے ۔ (3)
سوال اسلام میں عدل وانصاف کی کیا اہمیت ہے ؟
جواب اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چاہے عدل و انصاف کی بات آدمی
________________________________
1 - تفسیر صراط الجنان ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الآیۃ : ۹۰ ، ۵ / ۳۷۱ ۔
2 - مسلم ، کتاب الامارة ، باب فضیلة الامام العادل ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۷۸۳ ، حدیث : ۴۷۲۱ ۔
3 - بخاری ، کتاب الاذان ، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۲۳۶ ، حدیث : ۶۶۰ ۔