Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
209 - 360
جواب 	عدل اَقوال اور اَفعال میں انصاف و مُساوات کا نام ہے ۔  (1) 
سوال	قرآنِ کریم میں عدل و انصاف کے بارے میں کیا حکم دیا گیا؟ 
جواب 	قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-) (  پ۵ ، النساء :  ۵۸)  ترجمۂ کنزالایمان : ’’جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ ‘‘ ایک مقام پرارشاد فرمایا : ( وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)) (  پ۲۶ ، الحجرات :  ۹) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ ‘‘
سوال	احادیث میں عدل کرنے والوں کی کیا فضیلت بیان کی گئی ہے ؟ 
جواب 	 حضور امامُ العادِلین ، راحت العاشقین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :  بے شک عدل و انصاف کرنے والے اللہتعالیٰ کے دربار میں نور کے منبروں پر ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں ، اپنے گھر والوں کے بارے میں اور ان تمام کاموں میں جن کے وہ والی بنے ہیں عدل کرتے ہیں ۔  (2) نیزبخاری شریف کی حدیث پاک کے مطابق بروزقیامت سایۂ عرش پانے والوں میں سے ایک عادل حکمران بھی ہے ۔  (3) 
سوال	اسلام میں عدل وانصاف  کی کیا اہمیت ہے ؟ 
جواب 	اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چاہے عدل و انصاف کی بات آدمی 



________________________________
1 -     تفسیر صراط الجنان ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الآیۃ : ۹۰ ، ۵ / ۳۷۱ ۔ 
2 -     مسلم ، کتاب الامارة ، باب فضیلة الامام العادل ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۷۸۳ ، حدیث : ۴۷۲۱ ۔ 
3 -     بخاری ، کتاب الاذان ، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۲۳۶ ، حدیث : ۶۶۰ ۔