کے دونوں طرف سے پانی بہہ رہا تھا ۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے ؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پتھر سے دریافت فرمایا : اے پتھر ! یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہا ں جائے گا؟ اس نے عرض کی : جو پانی میری سیدھی جانب سے آرہا ہے وہ میری دائیں آنکھ کے آنسو ہیں اور الٹی جانب سے آنے والا پانی میری بائیں آنکھ کے آنسو ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا : تم یہ آنسو کس لئے بہا رہے ہو؟ پتھر نے جواب دیا : اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے خوف کی وجہ سے کہ کہیں وہ مجھے جہنم کا ایندھن نہ بنا دے ۔ (1)
سوال کن چیزوں کے ذریعے خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے ؟
جواب خوفِ خداکی عملی کوشش کے سلسلے میں درجِ ذیل چیزیں مدد گار ثابت ہوں گی ۔ اِنْ شَآءَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ ( 1) رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ اوراس نعمت کے حصول کی دعا کرنا ( 2) قرآن ِعظیم واحادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوفِ خدا کے فضائل پیش ِنظر رکھنا ( 3) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور وتفکر کرنا ( 4) خوف ِ خدا کے حوالے سے اَسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا ( 5) خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے فکرِ مدینہ کرنا ( 6) ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اِس صفتِ عظیمہ سے مُتَّصِف ہوں ۔ (2)
عدل و انصاف
سوال عدل کسے کہتے ہیں؟
________________________________
1 - شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ / ۵۲۸ ، حدیث : ۹۳۲ ۔
2 - خوف خدا ، ص۲۳ ۔