علانيہ کرو ۔ (1)
سوال آخرت میں سب سے زیادہ خوشی کس شخص کو ہوگی؟
جواب حضرت سیدنا عامر بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ آخر ت میں سب سے زیادہ خوش وہ ہو گا جو دنیا میں طویل عرصے تک غم میں رہا ہوگا ، آخرت میں سب سے زیادہ ہنسنا اسی کو نصیب ہو گا جو دنیا میں ( خوفِ خدا کے سبب) سب سے زیادہ رونے والا ہو اور بروز ِ قیامت سب سے زیادہ ستھرا ایمان اسی کا ہوگا جو دنیا میں زیادہ غور وفکر کرنے والا ہے ۔ (2)
سوال جو لوگوں کے سامنے خوفِ خدا کا اِظہار زیادہ کرے اسے کیا قراردیا گیا ہے ؟
جواب حدیث شریف میں ہے : جو لوگوں کو اس سے زیادہ خوفِ خدا دکھائے جتنا اس کے پاس ہے تو وہ منافق ہے ۔ (3)
سوال کسی صحابی کے خوفِ خدا کے متعلق بتائیے ؟
جواب حضرت سیدنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے غلبۂ خوف کے وقت ارشاد فرمایا : خدا کی قسم ! اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جس دن مجھے پیدا فرمایا تھا کاش ! اُس دن وہ مجھے ایسادرخت بنادیتا جس کو کاٹ دیاجاتا اور اس کے پھل کھالئے جاتے ۔ (4)
سوال کیا جمادات پر بھی خوفِ خدا کی کیفیت ہوتی ہے ؟
جواب جی ہاں ! حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک پتھر کے قریب سے گزرے جس
________________________________
1 - معجم کبیر ، ۲۰ / ۱۵۹ ، حدیث : ۳۳۱ ۔
2 - تنبیہ الغافلین ، باب التفکر ، ص۳۰۸ ۔
3 - مسند فردوس ، ۲ / ۳۰۲ ، حدیث : ۶۲۹۱ ۔
4 - مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، کلام ابی ذر رضی اللہ عنہ ، ۸ / ۱۸۳ ، حدیث : ۱ ۔