کی زبان میں کہ اسے جھوٹ ، غیبت اورفضول گوئی سے بچائے اور ذِکرو تلاوت اور مذاکرۂ علم میں مشغول رکھے ( 2) اپنے پیٹ کے معاملے میں خوف رکھے کہ اس میں صرف حلال وطَیِّب کو داخل کرے اور حلال میں سے بقدرِ حاجت کھائے ( 3) اپنی آنکھ کے معاملے میں خوف رکھے کہ حرام کی طرف نہ دیکھے اور دنیا کی طرف بجائے رغبت کے عبرت کی نظر سے دیکھے ( 4) اپنے ہاتھ کے معاملے میں خوفِ الٰہی رکھے کہ انہیں حرام کی طرف نہ بڑھائے بلکہ اطاعتِ باری تعالیٰ کے کاموں میں لگائے ( 5) اپنے پاؤں کے معاملے میں ڈرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں نہ چلیں ( 6) اپنے دل کے معاملے میں خوف رکھے کہ اُس میں سے بغض وعداوت اور حسد نکل جائے اور مسلمانوں کے لیے شفقت ونصیحت پیدا ہو اور ( 7) بندہ اطاعتِ الٰہی کے معاملے میں خوف زدہ رہے کہ اطاعت محض اللہ تعالیٰ کے لیے ہو اور ریاونفاق سے ڈرتارہے ۔ (1)
سوال کتناخوفِ خدا ضروری ہے ؟
جواب حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں نصیحت کی درخواست کی تو حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمايا : جہاں تک ممکن ہو اپنے اوپر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف لازم کر لو ، ہر شجر کے پاس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتے رہواور جب کوئی بُرا کام کر بیٹھو تو ہر بُرے کام کے ليے نئی توبہ کرو ، اگر گناہ خفيہ کيا ہو تو توبہ بھی خفيہ کرو اوراگر گناہ علانيہ ہے تو توبہ بھی
________________________________
1 - تنبیہ الغافلین ، باب ماجاء فی خوف اللہ تعالی ، ص۲۰۹ ۔