عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳)) ( پ۱۸ ، النور : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : توڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر درد ناک عذاب پڑے ۔ (1)
سوال خوف کے کتنے درجات ہیں اور سب سے بہتر درجہ کون سا ہے ؟
جواب حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنا اِمام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی کی تحقیق کی روشنی میں خوف کے تین درجات ہیں : ( 1) ضعیف : یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو ، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانااور پھرسے غفلت ومَعْصِیَّت میں گرفتار ہوجانا ۔ ( 2) مُعْتَدَل : یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو ، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کوسن کران سے بچنے کے لئے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ رب تعالیٰ سے امید ِ رحمت بھی رکھنا ۔ ( 3) قوی : یہ وہ خوف ہے جوانسان کو ناامیدی ، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کردے ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا ۔ یاد رہے کہ ان سب میں بہتر درجہ”معتدل“ہے ۔ (2)
سوال خوفِ خدا کی علامت کن کن چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے ؟
جواب حضرت سَیِّدُنا فقیہ ابواللیث سمر قندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف کی علامت سات چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے : ( 1) انسان
________________________________
1 - الزواجر عن اقتراف الکبائر ، مقدمة فی تعریف الکبیرة ، ۱ / ۳۳ ۔
2 - احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان درجات الخوف ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۱۹۲ ، ماخوذاً ۔