Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
205 - 360
 عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۶۳))  (  پ۱۸ ، النور : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان :  توڈریں وہ جو رسول کے حکم کے خلاف کرتے ہیں کہ انہیں کوئی فتنہ پہنچے یا ان پر درد ناک عذاب پڑے ۔  (1)
سوال	 خوف کے کتنے درجات  ہیں اور سب سے بہتر درجہ کون سا ہے ؟ 
جواب	حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنا اِمام محمد غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی کی تحقیق کی روشنی میں خوف کے تین درجات ہیں  :  (  1) ضعیف : یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو ، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانااور پھرسے غفلت ومَعْصِیَّت میں گرفتار ہوجانا ۔   (  2) مُعْتَدَل :  یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو ، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کوسن کران سے بچنے کے لئے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ رب تعالیٰ سے امید ِ رحمت بھی رکھنا ۔  (  3) قوی : یہ وہ خوف ہے  جوانسان کو ناامیدی ، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کردے ۔  مثلاً اللہ تعالیٰ کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا ۔  یاد رہے کہ ان سب میں بہتر درجہ”معتدل“ہے ۔  (2) 
سوال	خوفِ خدا کی علامت کن کن چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے ؟ 
جواب	حضرت سَیِّدُنا فقیہ ابواللیث سمر قندی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف کی علامت سات چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے  :  (  1) انسان



________________________________
1 -     الزواجر عن اقتراف الکبائر ، مقدمة فی تعریف الکبیرة ، ۱ /  ۳۳ ۔ 
2 -     احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان درجات الخوف ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ /  ۱۹۲ ، ماخوذاً ۔