سوال خوفِ خدا کی اقسام بیان کیجئے ؟
جواب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاخوف دو طرح کا ہے : ( 1) عذاب کے خوف سے گناہوں کو ترک کر دینا ۔ ( 2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال ، اس کی عظمت اور اس کی بے نیازی سے ڈرنا ۔ پہلی قسم کا خوف عام مسلمانوں میں سے پرہیز گاروں کو ہوتا ہے اور دوسری قسم کا خوف حضراتِ اَنبیا و مُرسَلین ، اولیائے کاملین اور مُقَرَّب فرشتوں کو ہوتا ہے اور جس کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جتنا زیادہ قرب ہوتاہے اسے اتنا ہی زیادہ خوف ہوتا ہے ۔ (1)
سوال خوفِ خدا کے حصول کا سب سے بڑا سبب کس چیز کو قراردیا گیا ہے ؟
جواب خوفِ خدا کے حصول اور اس میں اضافہ کا سب سے بڑا ذریعہ علم ہے ، جیسا کہ اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے : ( اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ) ( پ۲۲ ، فاطر : ۲۸) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ “ یہی وجہ ہے کہ علما صحابۂ کرام رِضْوَان اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اور ان کے بعدوالے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی پر خوفِ خدا کاغلبہ رہتا تھا ۔ (2)
سوال گناہوں سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ کونسا ہے ؟
جواب گناہوں سے روکنے کاسب سے بڑا ذریعہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ، اس کے انتقام کا ڈر ، اس کے عقاب ، غضب اور پکڑ کااندیشہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشا دفرماتاہے :
( فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ
________________________________
1 - تفسیر کبیر ، پ۹ ، الانفال ، تحت الایة : ۲ ، ۵ / ۴۵۰ ، ملتقطاً ۔
2 - الزواجر عن اقتراف الکبائر ، مقدمة فی تعریف الکبیرة ، ۱ / ۴۸ ۔