Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
197 - 360
سوال	حدیثِ پاک یادکرکے دوسروں تک پہنچانے کی کیا فضیلت ہے ؟ 
جواب	حضور تاجدارِ ختم نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی حدیث سنی پھر اسے یاد کر لیا یہاں تک کہ اسے  (  دوسروں تک) پہنچا دیا ۔  (1) 
سوال	اپنے پاس سے حدیث گھڑنے کی کیا وعید ہے ؟ 
جواب	حضورِاکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : میری حدیث روایت کرنے سے بچو سوا اُن کے جن کو تم جانتے ہو کیونکہ جو جان بوجھ کر مجھ پرجھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا  جہنم میں بنالے ۔  (2) حکیمُ الاُمَّت ، مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیاس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں :  اگرچہ ہر ایک پر جھوٹ باندھنا بُہتان اورگناہ ہے مگرحضورِ اَنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا بہت گناہ ہے کہ اس سے دِین بگڑتا ہے ۔  (3) 
سوال	چالیس احادیث یاد کرنے یا کتابی شکل میں شائع کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟ 
جواب	حضرت  سیدناابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے حضورتاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ جو میری اُمّت پر چالیس احکامِ دین کی حدیثیں حفظ کرے اُسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفیع وگواہ ہوں گا ۔  (4) حکیمُ الاُمَّت ، مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی



________________________________
1 -     ابو داود ، کتاب العلم ، باب فضل نشر العلم ، ۳ / ۴۵۰ ، حدیث : ۳۶۶۰ ۔ 
2 -     ترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ماجاء فی الذی یفسر القراٰن برأیہ ، ۴ / ۴۳۹ ، حدیث : ۲۹۶۰ ۔ 
3 -     مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۲۰۷ ۔ 
4 -     شعب الایمان ، باب  فی طلب العلم ، فصل فی فضل العلم وشرفہ ، ۲ / ۲۷۰ ، حدیث : ۱۷۲۶ ۔