فرق ہے ؟
جواب حدیثِ قدسی اور قرآن میں فرق یہ ہے کہ حدیثِ قدسی خواب ، اِلہام سے بھی حاصل ہوسکتی ہے ۔ قرآن بیداری ہی میں آئے گا ۔ نیز قرآن کے لفظ بھی رب کے ہیں ، حدیث کا مضمون رب کا ، الفاظ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ۔ (1)
سوال ”مُکْثِرِیْن صحابہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ“سے کون مراد ہیں نیز ان میں سے چند کے نام بھی بتائیے ؟
جواب وہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْجن سے کثیر تعداد میں احادیث مروی ہیں ان کو ’’مُکْثِرِیْن صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ‘‘ کہاجاتاہے ، یہ وہ حضرات ہیں جن کی مَرْوِیّات ( روایت کردہ احادیث) کی تعداد دوہزار سے زائد ہے ان ( میں سے چند) کے اسماءِ گرامی درج ذیل ہیں : ( 1) حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ، آپ سے 5374 احادیثِ کریمہ مَروِی ہیں ۔ ( 2) حضرت سیدنا عبدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ، آپ سے 2630 احادیثِ کریمہ مروی ہیں ۔ ( 3) حضرت سیدنا جابر بن عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ، ان سے 2540 احادیثِ طیبہ مَروِی ہیں ۔ (2)
سوال احادیثِ قدسیہ کی تعداد کتنی ہے ؟
جواب احادیثِ قدسیہ کی تعداد200 سے زیادہ ہے ۔ (3)
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۴۲ ۔
2 - تیسیر مصطلح الحدیث ، الباب الرابع ، الفصل الثانی ، ص۱۵۱ ۔
3 - تیسیر مصطلح الحدیث ، الباب الاول ، الفصل الرابع ، ص۹۴ ۔