رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکاشانۂ رسالت پر حاضر ہوئے اوردروازہ کھٹکھٹایا تو حضوررحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھے اور کپڑاکھینچتے ہوئے ان کی طر ف تشریف لے گئے اور اُن سے مُعانَقَہ کیا اور ان کو بوسہ دیا ۔ (1)
سوال بزرگانِ دین کی دَسْت بوسی کی فضیلت بیان کیجئے ؟
جواب شَیْخُ الْمَشائخ حضرت سیدنا بابا فرید الدین گنج شکر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشادفرماتے ہیں : قیامت کے دن بہت سارے گناہگار ، بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی دست بو سی کی برکت سے بخشے جائیں گے اور دوزخ کے عذاب سے نجات حاصل کریں گے ۔ (2)
قرآنِ کریم
( فضائل ومعلومات)
سوال قرآنِ پاک حفظ کرنے کے متعلق شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب ایک آ یت کا حفظ کرنا ہر مکلف ( یعنی عاقل بالغ ) مسلمان پر فرضِ عین ہے اور پورے قرآنِ مجید کا حِفْظ کرنا فرضِ کفایہ ہے ( کہ اگر چند مسلمان حفظ کر لیں تو دوسروں کے ذمے زبانی یاد کرنا لازم نہیں رہے گا ) اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کی مثل تین چھوٹی آ یتیں یا ایک بڑی آ یت کا یاد کرنا ہر ایک کیلئے واجب ہے ۔ (3)
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب الاستئذان ، باب ماجاء فی المعانقة والقبلة ، ۴ / ۳۳۵ ، حدیث : ۲۷۴۱ ۔
2 - ہشت بہشت ، ص۳۸۲ ۔
3 - درمختار ، کتاب الصلاة ، فصل فی القراءة ، ۲ / ۳۱۵ ۔