رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں اور وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے آکر مصافحہ کیا ۔ (1)
سوال مُصافَحَہ کس طرح کرنا چاہئے ؟
جواب مسکراکرگرم جوشی سے مصافحہ کریں ۔ درود شریف پڑھیں اور ہوسکے تو یہ دعا بھی پڑھیں : یَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ ( یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے ) ۔ (2)
سوال مُصافَحَہ کی برکت سے کونسے باطنی مرض کا خاتمہ ہوتا ہے ؟
جواب آپس میں ہاتھ ملانے سے بغض وکینہ ختم ہوتا ہے ۔ حضور تاجدارِ دوجہان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرو اس سے کینہ جاتا رہتا ہے اورتحفہ بھیجو آپس میں محبت ہوگی اور دشمنی جاتی رہے گی ۔ (3)
سوال خوشی کے موقع پر گلے ملنا کیسا ہے ؟
جواب خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنّت ہے ۔ (4) حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ حضرت زید بن حارِثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ طیّبہ آئے تواُس وقت حضور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے گھر میں تھے ۔ حضرت زید
________________________________
1 - ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی المصافحة ، ۴ / ۴۵۳ ، حدیث : ۵۲۱۳ ۔
2 - سنتیں اور آداب ، ص۲۸ ۔
3 - موطا امام مالک ، کتاب حسن الخلق ، باب ماجاء فی المھاجرة ، ۲ / ۴۰۷ ، حدیث : ۱۷۳۱ ۔
4 - مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۳۵۹ ۔