جواب حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : برتن چاٹنے میں کھانے کا ادب ہے ، اِس کو بربادی سے بچانا ہے ، برتن یوں ہی چھوڑ دینے سے اِس پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں ، برتن میں لگے ہوئے کھانے کے اَجزاء مَعَاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّ نالیوں ، گندگیوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں ، جس سے اُس کی سخْت بے اَدَبی ہوتی ہے ۔ اگر ایک وقت میں ہر فرد چند دانے بھی برتن میں چھوڑ کر ضائِع کر دے تو روزانہ کئی من کھانا برباد ہو گا ۔ غرض یہ کہ برتن چاٹنے میں کئی حکمتیں ہیں ۔ (1)
سوال روٹی کا کنارہ توڑ کر الگ کرلینا اور صرف درمیان کا حصہ کھا لینا کیسا ہے ؟
جواب روٹی کاکَنارا توڑ کر ڈال دینا اور بیچ کاحصّہ کھا لینا اِسراف ہے ۔ ہاں اگرکَنارے کچّے رہ گئے ہیں ، اِس کے کھانے سے نقصان ہو گا تو توڑ سکتا ہے ، اِسی طرح یہ معلوم ہے کہ روٹی کے کَنارے دوسرے لوگ کھا لیں گے ضائع نہ ہوں گے تو توڑنے میں حرج نہیں ، یہی حکم اس کا بھی ہے کہ روٹی میں جو حصّہ پھولا ہوا ہے اُسے کھا لیتا ہے باقی کو چھوڑ دیتا ہے ۔ (2)
لباس انگوٹھی اور زیور
سوال حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کونسی چادر بہت پسند تھی؟
جواب حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حِبَرہ ( یعنی دھاری دار یمنی چادر) بہت پسندتھی ۔ (3)
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۳۷ ۔
2 - بہار شریعت ، حصہ ۱۶ ، ۳ / ۳۷۷ ، ماخوذاً ۔
3 - بخاری ، کتاب اللباس ، باب البرود ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۵۴ ، حدیث : ۵۸۱۳ ، فیض القدیر ، ۵ / ۱۰۵ ، تحت الحدیث : ۶۵۰۴ ۔