Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
167 - 360
 بھی ذَبْح کر رہا ہوں اور آئندہ گناہوں سے بچوں گا ۔  (1) 
سوال	قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والا شخص قربانی کا ثواب کیسے حاصل کرسکتا ہے ؟ 
جواب	حکیمُ الاُمَّت مفتی احمدیار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں  : جو قربانی نہ کر سکے وہ بھی اس عَشَرَہ  (  ذو الحجۃ الحرام کے ابتِدائی دس ایّام) میں حجامت نہ کرائے (  بال وناخن نہ کاٹے ) ، بقرہ عید کے دن بعد ِنَمازِ عیدحجامت کرائے تو اِنْ شَآءَاللهُ عَزَّوَجَلَّ  (  قربانی کا ) ثواب پائے گا ۔  (2) 
سوال	کیا قربانی کے بجائے اُس کی رقم صدقہ کردینا کافی ہوگا؟ 
جواب	 قربانی کے وَقْت میں قربانی کرنا ہی لازِم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مَثَلاًبجائے قربانی کے بکرا یااُس کی قیمت صَدَقہ (  خیرات) کردی جائے یہ ناکافی ہے ۔  (3) 
سوال	چاندنظرآنے سے قربانی کرنے تک ناخن اور بال نہ  کاٹنے میں کیا حکمت ہے ؟ 
جواب	 جو امیر وُجُوباً یا فقیر نَفلاً قُربانی کا ارادہ کرے وہ ذو الحجۃ الحرام کا چاند دیکھنے سے قربانی کرنے تک ناخُن بال اور (  اپنے بدن کی) مُردار کھال وغیرہ نہ کاٹے نہ کٹوائے تا کہ حاجِیوں سے قَدْرے (  یعنی تھوڑی) مُشابَہَت ہو جائے کہ وہ لوگ اِحرام میں حجامت نہیں کرا سکتے اور تا کہ قربانی ہربال ، ناخُن  (  کے لیے جہنم سے آزادی) کافِدیہ بن جائے ۔  یہ حکم اِسْتِحْبابِی ہے وُجُوبی نہیں  (   یعنی واجِب نہیں ، 



________________________________
1 -     ابلق گھوڑے سوار ، ص۱۷ ۔ 
2 -     مرآۃ المناجیح ، ۲ /  ۳۷۰ ۔ 
3 -     فتاوی ھندیة ، کتاب الاضحیة ، الباب الاول فی تفسیرھا ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ /  ۲۹۳ ۔