Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
163 - 360
		  اونٹ کو نَحْر کرنا اور گائے بکری وغیرہ کو ذَبح کرنا سنت ہے اور اگر اس کا عکس کیا یعنی اونٹ کو ذَبح کیا اور گائے وغیرہ کو نَحْر کیا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہو جائے گا مگر ایسا کرنا مکروہ ہے کہ سنت کے خلاف ہے ۔  (1) 
سوال	 اونٹ کوتین جگہ سے نحر کرنا کیسا ہے ؟ 
جواب	 عوام میں یہ مشہور ہے کہ اونٹ کو تین جگہ ذبح کیا جاتا ہے غلط ہے اور یوں کرنا مکروہ ہے کہ بلا فائدہ ایذا دینا ہے ۔  (2) 
سوال	ذبح کرتے ہوئے جانور کا سر ہی الگ کردیا توجانور حلال ہوگا یا نہیں؟ 
جواب	اس طرح ذبح کرنا کہ چُھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے مکروہ ہے مگر وہ ذَبیحہ کھایا جائے گا یعنی کراہت اُس فعل میں ہے نہ کہ ذبیحہ میں ۔  (3) عام لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ذبح کرنے میں اگر سَر جدا ہوجائے تو اس سر کا کھانا مکروہ ہے یہ کتبِ فقہ میں نظر سے نہیں گزرا بلکہ فقہا کا یہ ارشاد کہ ذبیحہ کھایا جائے گا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سر بھی کھایا جائے گا ۔  (4) 
سوال	جانور کو بلا وجہ تکلیف پہنچانا کیسا ہے ؟ 
جواب	ہر وہ فعل جس سے جانور کو بِلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو ٹھنڈا ہونے سے پہلے اُس کی کھال اُتارنا ، اُس کے اعضاکاٹنا یا ذبح 



________________________________
1 -     فتاوی ھندیة ، کتاب الذبائح ، الباب الاول فی رکنہ ۔ ۔ ۔  الخ ، ۵ /  ۲۸۵ ۔ 
2 -     بہارشریعت ، حصہ۱۵ ، ۳ /  ۳۱۲ ۔ 
3 -     ھدایة ، کتاب الذبائح ، ۲ /  ۳۵۰ ۔ 
4 -     بہارشریعت ، حصہ۱۵ ، ۳ /  ۳۱۵ ۔