Brailvi Books

دلچسپ معلومات ( حصہ 2)
160 - 360
جواب	 (  1) حضورتاجدارِختمِ نبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جس نے ادا نہ کرنے کے ارادے سے قرض ليا اور مر گيا تو قيامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس سے ارشاد فرمائے گا :  تو نے يہ گمان کياکہ میں اپنے بندے کوکسی دوسرے کے حق کی وجہ سے نہیں پکڑوں گا ۔ پس اس کی نيکياں لے لی جائيں گی اور دوسرے کی  نیکیوں میں ڈال دی جائيں گی اور اگر اُس کے پاس نيکياں نہ ہوں گی تو دوسرے کے گناہ لے کر اُس پر ڈالے جائيں گے ۔  (1)  (  2) حضورنبیِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  جو آدمی اس عَزْم سے قرض ليتا ہے کہ اد انہ کرے گا تووہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے چوربن کر ملے گا ۔  (2) 
سوال	سود کی حُرمت کب نازِل ہوئی؟ 
جواب	سود کی حرمت۹ہجری میں نازل ہوئی اور اس کے ایک سال بعد  ۱۰ ہجری میں ’’حِجَّۃُ الْوَداع‘‘کے موقع  پر اپنے خطبوں میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا خوب خوب اعلان فرمایا ۔  (3) 
سوال	سود کوکس لئے  حرام قراردیا گیا؟ 
جواب	سود کو حرام فرمانے میں بہت سی حکمتیں ہیں اِن میں سے بعض یہ ہیں :  (  1) سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ مالی معاوضے والی چیزوں میں بغیر کسی عوض کے مال لیا جاتا ہے اور یہ صریح ناانصافی ہے  ۔  (  2) سود کا رَواج تجارتوں کو خراب کرتا



________________________________
1 -     معجم کبیر ، ۸ /  ۲۴۳ ، حدیث : ۷۹۴۹ ۔ 
2 -     ابن ماجہ ، کتاب الصدقات ، باب من ادان دینا لم ینو قضاءہ ، ۳ /  ۱۴۳ ، حدیث : ۲۴۱۰ ۔ 
3 -     سیرت مصطفیٰ ، ص۵۰۴ ۔